عوام کو پٹرول پر کتنا ٹیکس پڑتا ہے؟

عوام کو پٹرول پر کتنا ٹیکس پڑتا ہے؟


اسلام آباد( 24نیوز ) چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس موقع پر جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ پیٹرول کی قیمت پھر ساڑھے 7 روپے بڑھا دی گئی جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور روپے کی قیمت میں کمی کے سبب بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں، چیف جسٹس نے کہا ہے کہ قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں اس کا جواز دینا ہوگا۔
اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سیل پرائس اور لینڈڈ پرائس میں بہت فرق ہے جب کہ چیف جسٹس نے کہا کہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے، کبھی سیلز ٹیکس بڑھا دیتے ہیں اور کبھی کسٹم ڈیوٹی، یہ کس بات کی ہیں، ہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ماہرین کی رائے چاہتے ہیں، چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ تین مہینے کی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بریک اپ دیں جس پر انہوں نے کہا کہ یہ پی ایس او والے ہی بتاسکتے ہیں، اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو ٹیکس ایڈجسٹ کریں عوام پر بوجھ نہ ڈالیں، لوگ یہ بوجھ اٹھا نہیں سکیں گے۔

 یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد گرفتار  
جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آپ اس بات سے اتفاق کر سکتے ہیں کہ ڈیلر مارجن کم ہوسکتا ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ڈیلر مارجن بارہ مہینے کے لیے ہوتا ہے اور یہ ابھی بڑھایا گیا ہے۔
دوران سماعت پی ایس او نے رواں ماہ کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز کی تفصیلات جمع کرادیں جس کے مطابق عوام صرف جولائی میں 70 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ برداشت کریں گے،دستاویزات کے مطابق پیڑول پر 37 روپے 63 پیسے فی لیٹر ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 52 روپے 24 پیسے اور مٹی کے تیل پر 22 روپے 93 پیسے فی لیٹر ٹیکسز اور ڈیوٹیز عائد ہیں، پیٹرول پر 17 روپے 46 پیسے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 28 روپے 23 پیسے، مٹی کے تیل پر 12 روپے 74 اور لائٹ ڈیزل پر 11 روپے 76 پیسے فی لیٹر جی ایس ٹی وصول کیا جا رہا ہے،پٹرول پر 10 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی بھی وصول کی جا رہی ہے، اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 8 روپے، مٹی کے تیل پر 6 روپے اور لائٹ ڈیزل پر 3 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایون فیلڈ ریفرنس فیصلہ،نوازشریف رکاوٹ بن گئے
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز کمیشن، او ایم سیز مارجن بھی الگ سے وصول کیا جا رہا ہے جب کہ ان لینڈ فریٹ مارجن بھی الگ سے وصول کیا جا رہا ہے اسی طرح پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر کسٹمز ڈیوٹی بھی الگ سے وصول کی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب سب چیزیں بڑھا دی جائیں تو لوگوں پر بوجھ آنا ہی ہے، پانچ روپے دے کر سفر کرنے والے سے 10 روپے لیں گے تو پہلے وہ اپنے پیٹ پر کٹ لگائے گا پھر بچوں کی فیسوں پر اور پھر اسے اپنی خوشیوں پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔
عدالت کی طرف سے پوچھا گیا کہ پیٹرول کی قیمت کیسے کم ہو سکتی ہے یہ بتائیں جس پر نمائندہ ایف بی آر نے کہا کہ قیمتوں میں کمی بیشی وفاقی حکومت کی صوابدید پر ہے، بغیر نقصان کے قیمتوں میں کتنے فیصد کمی ہوسکتی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ قیمتوں کے معاملے میں وفاقی حکومت کو آن بورڈ لینا ہوگا اور اس کے لیے کچھ وقت دے دیں،عدالت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت 8 جولائی تک کے لیے ملتوی کردی۔