کاش ایسا ہوجائے!!

کاش ایسا ہوجائے!!


2019 کے ورلڈ کپ کو 1992 کے ورلڈ کپ سے مماثل قرار دیا جارہا تھا، ہر چیز درست سمت میں جارہی تھی۔ پہلا میچ ویسٹ انڈیز سے ہارے تو بانوے  کی ہسٹری پر نظر دوڑائی تو  پتہ چلا ویسٹ انڈیز سے ہمارا پہلا ہی میچ تھا اور ہم ہارے۔ بس پاکستانی شائقین کو پکا یقین ہوگیا کہ یہ ورلڈ کپ اپنا ہے۔ دوسرا میچ ہوا تو میچ بارش کی نظر ہو گیا اور  یہ بھی بانوے سے جا ملا۔ تیسرا ہوا تو ہم انگلینڈ سے جیتے چوتھا ہارے ، الغرض سارا کچھ بانوے سے مل رہا تھا پھر ایسا موقع آیا کہ 2 ٹیمیں ایسی نمودار ہوئیں جو بانوے کے ورلڈ کپ میں تھی ہی نہیں ایک افغانستان اور دوسری بنگلہ دیش۔ افغانستان سے تو دعائیں کر کے ہم جیت گئے لیکن اب باری ہے بنگال کو بڑے ٹارگٹ سے بچھارنے کی آئی تو ہم سب کی زبان پر ایک جملہ آگیا کہ " کاش ایسا ہوجائے".

پاکستان اور بنگلہ دیش کا انتہائی اہم میچ ، یہ میچ پاکستان کو کراچی ایئر پورٹ بھیجے گا یا سیمی فائنل کی راہ دکھائے گا اس بات کا اندازہ میچ کے بعد ہوگا۔ پاکستان ورلڈ کپ کرکٹ کی دوڑ سے عملاً آؤٹ ہو چکا ہے لیکن آخر معجزے بھی تو اسی دنیا میں ہوتے ہیں اور کاش ایسا ہوجائے کہ  کپتان سرفراز احمد  کا معجزہ پورا ہوجائے اور بنگلہ دیش کیخلاف 500 رن کا مجموعہ جوڑنے کی خواہش پوری ہوجائے۔  سرفراز احمد کی خواہش سوشل میڈیا پر تو پشاور میں پوری ہوتی ہوئی دیکھی جاچکی ہے جس میں ان کی خواہش سے بھی بڑھ کر پاکستان نے 2وکٹ کے نقصان پر 640رن بنا ڈالے  اور جواب میں بنگلہ دیش کو صرف 105 رنز کا آؤٹ کردیا۔  اس پشاوری پوسٹ کو لوگوں نے بھی بہت پسند کیا اور کمنٹ کیا کہ " کاش ایسا ہوجائے"۔  

پاکستان کو ورلڈکپ سیمی فائنل میں جانے کیلئے بنگلہ دیش کوتین سو سولہ رنزکے بڑے مارجن سے ہرانا ہوگا، پہلے بیٹنگ نہ آئی تو پاکستان ویسے ہی دوڑسے باہرہوجائے گا۔ کپتان سرفرازاحمد کی خواہش پوری ہوسکتی ہے، اس کی تعبیرکیلئے ایک انتہائی پرانا میچ یادآتا ہے۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب خبردنوں میں نہیں برسوں میں دوسروں تک پہنچتی تھی۔ یہ حقیقیت تھی یافسانہ یہ بھی پتہ نہیں لیکن یہ خبرچھپی پندرہ جنوری اٹھارہ سوچورانوے کو جس میں حوالہ دیا گیا کہ اٹھارہ سوپینسٹھ میں ایک ایسا کاؤنٹی میچ کھیلا گیا، جس میں بلے باز نے شاٹ ماری توگیند درخت میں پھنس گئی اوراس کو نکالنے میں اتنی دیر لگ گئی کہ دونوں کھلاڑیوں نے وکٹوں کے درمیان دوڑ کردوسوچھیاسی رنزبنالئےیعنی ایک گیند پردوسوچھیاسی رنز بن گئے۔

کاش ایسا ہوجائے کہ ہرڈاٹ بال وائیڈ اورہرباؤنسرنوبال ہو اورہرنوبال پرفری ہٹ ہو۔ پاکستان جس کھلاڑی کوجتنی مرضی باریاں دلوائے کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔ کاش ایسا ہوجائے کہ بنگالی ٹیم بیٹنگ پر آئے اور کرکٹ کی ہسٹری کے کم ترین اسکور پر آؤٹ ہوجائے اور پاکستانی باولرز ہیٹ ٹرک کرلیں۔ 

کاش ایسا ہونے کو تو سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم اس کاش سے کب نکلے گی۔ ہر بڑے ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کی اپنی کارکردگی تو صفر ہوتی ہے لیکن کاش یہ ٹیم جیت جائے وہ ہار جائے اس چنگل سے باہر نہیں آتے۔ اس کاش کے چکر میں شاہین ہمیں بھارت کی بھی جیت کیلئے دعائیں کرانے پر مجبور کرا دیتے ہیں۔  لیکن ہم بھی پاکستانی ہیں جب تک ہمارے شاہین گراؤنڈ میں ہیں ہم پاکستان کی کامیابی کیلئے دعائیں کرتے رہیں گے۔ 

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔