پاکستان اور چین کے دوسرے تجارتی معاہدے پر بھی عملدرآمد تاخیر کا شکار

پاکستان اور چین کے دوسرے تجارتی معاہدے پر بھی عملدرآمد تاخیر کا شکار


اسلام آباد(24نیوز)پاک چین آزاد تجارتی معاہدہ دوئم پر عمل درآمد تاخیر کا شکار، پاکستانی تاجروں کو چینی منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی کے لیے مزید انتظار کرنا ہوگا۔

وزارت تجارت کے حکام کے مطابق معاہدے پر عمل درآمد میں مزید 2سے 3ماہ لگ سکتے ہیں, تاخیر سے پاکستان ایف ٹی اے ٹو کی سہولت حاصل نہیں کر پارہا,  معاہدے میں جتنی تاخیر ہوگی پاکستان کو برآمدات میں نقصان ہوگا, پاکستان معاہدے پر عمل درآمد کرنے کیلئے تیار ہیں, وزارت تجارت چین کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد کیلئے پروسیچرل تاخیر ہے۔

ایف ٹی اے ٹو پر عمل درآمد یکم جولائی 2019سے کرنے کا پلان تھا,  وزارت تجارت ایف ٹی اے ٹو پر اپریل 2019میں دستخط ہوئے تھے, وزارت تجارت معاہدے کے تحت پاکستان کو آسیان ممالک کی طرز پر رعایت میسر ہوگی, پاکستان کو 313مصنوعات کی برآمد پر ڈیوٹی فری رسائی ملے گی,  پاکستان کی 90فیصد برآمدات کی چین کو ڈیوٹی فری رسائی ممکن ہوپائے گی,  پاکستان اور چین نے 75فیصد ٹیرف لائنز کی ڈیوٹی فری رسائی پر اتفاق کیا ہے۔

تجارتی حکام کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی چین کیلئے برآمدات پانچ سال میں ساڑھے چھ ارب ڈالرز بڑھنے کی توقع ہے, ڈیوٹی کی چھوٹ صرف ٹیکسٹائل مصنوعات تک محدود نہیں ہوگی, وزارت تجارت کیمیکل، انجینئرنگ، فوڈ آیٹمز کی چین کو برآمد ڈیوٹی فری ہو گی, فٹ وئیر,پلاسٹک کی مصنوعات کی برآمد بھی ڈیوٹی فری ہوں گی, پاکستان کی مقامی صنعتوں کو مکمل تحفظ حاصل ہو گا,حکام وزارت تجارت آزاد تجارتی معائدے میں مقامی صعنت کو تحفظ دیا گیا ہے, چین کی 1700 مصنوعات کو حساس لسٹ میں رکھا گیا ہے, حکام پاکستان کو ڈیوٹی فری رسائی دینے والی اشیاء کی چین میں سالانہ درآمد 60 ارب ڈالرزہے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer