نواز شریف نے لوڈشیڈنگ کا ملبہ نگران حکومت پر ڈال دیا

نواز شریف نے لوڈشیڈنگ کا ملبہ نگران حکومت پر ڈال دیا


اسلام آباد( 24نیوز ) سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ہمارے جانےتک کوئی لوڈشیڈنگ نہیں تھی اگر اب لوڈشیڈنگ ہورہی ہے تو اس کی ذمہ داری نگران حکومت ہے۔

احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کے دوران نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم سسٹم میں 10 ہزار میگا واٹ کا اضافہ کر کے گئے اور ہمارے جانے تک کوئی لوڈشیڈنگ نہیں تھی، اگر اب بجلی پوری نہیں تو ذمہ دار نگران حکومت ہے۔ حکومت دوبارہ ملی تو ضروری اقدامات کریں گے، قومی کمیشن بنے گا جو حساب کتاب کرے گا، پارلیمنٹ کے قانون کو سنگل رکنی بنچ کیسے اٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے۔

صحافی کے سوال کہہ  ڈی جی آئی ایس پی آر نے کل سوشل میڈیا سے متعلق بات کی، کیا کہیں گےجس کے جواب میں سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پوری پریس کانفرنس نہیں سنی اس لیے کچھ نہیں کہہ سکتے، ماضی میں بار بار گرے ہیں اب سنبھلنا چاہیے جب کہ انہوں نے ایک شعر بھی پڑھا۔

جو ٹھوکر نہ کھائے نہیں جیت اس کی

جو گر کر سنبھل جائے ہے جیت اس کی

                                                                                                                                                   العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کی سماعت

سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی احتساب عدالت میں سماعت جاری ہے،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سماعت کر رہے ہیں جب کہ ریفرنس میں نامزد ملزم نواز شریف کمرہ عدالت میں موجود ہیں،سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث بھی پیش ہوئے،اکتیس مئی کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر دوران جرح واجد ضیاءکا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کو ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جو نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل مل کا شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر ظاہر کرے یا وہ مالی معاملات دیکھتے ہوں یا وہ العزیزیہ کے لیے بینکوں یا مالی اداروں سے ڈیل کرتے ہوں،واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ دستاویزی ثبوت نہیں جو ظاہر کرے کہ نواز شریف نے العزیزیہ کی کسی دستاویز پر کبھی دستخط کیے ہوں۔

یاد رہے سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔