پلاسٹک ماحولیات کیلئے کس حد تک خطرناک ہے؟

پلاسٹک ماحولیات کیلئے کس حد تک خطرناک ہے؟


کراچی(24نیوز) ماحولیات کےعالمی دن پرپلاسٹک کوشکست دینا جیسے موضوع پراتفاق ہے، پلاسٹک کی منصوعات سے کئی قسم کے نقصانات ہورہے ہیں۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان بھر میں بھی 5 جون ماحولیات کے عالمی دن کے طور پر منایا جارہا ہے،  اس بار ماحولیات کے عالمی دن پر موضوع ماحول میں پلاسٹک کو شکست دینا قرار پایا ہے۔

پاکستان کابھی ان ممالک میں شمار ہو تا ہے جو پلاسٹک آلودگی کی لپیٹ میں ہیں۔ملک کے سب سے بڑے کراچی میں پلاسٹک سے پیدا کردہ آلودگی بے پناہ ہے۔بیشتر نالوں کی صفائی کا حال آپ کے سامنے ہیں، نالوں میں لاتعداد پلاسٹک کی تھیلیں نکاسی میں روکاوٹ کا ذریعہ بن رہی ہیں ، ساحل سمندر ہو یا شہر کی اہم شاہراہیں جہاں بھی نظر ڈورائیں وہاں پرپلاسٹک کی تھیلیوں اور بوتلیں ایک نہیں کئی ملے گی۔

ماہر ماحولیات محمد نعیم قریشی بھی ماحول میں آلودگی کیسب سے بڑی وجہ پلاسٹک کی تھیلیوں کو قرار دے رہےہیں۔موسم کی تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافہ اور فیکٹریوں سےنکلنے والی گیسوں کا اخراج بھی ماحولیات میں آلودگی کا سبب بنتا ہے۔

عدالتی احکامات کے باوجود شہر قائد کے بازاروں اورکارخانوں سے پلاسٹک کی تھیلیوں کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا، جو کہ انتظامیہ کی کارگردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

 

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔