سپریم کورٹ کا ایف بی آر کے افسروں سے گاڑیاں واپس لینے کا حکم


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ میں سرکاری گاڑیوں سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے ایف بی آر کے تمام افسروں سے سرکاری گاڑیاں واپس لینے کا حکم دے دیا، کسی افسر کو 1300 سی سی سے بڑی گاڑی کے استعمال کی اجازت نہیں، کسی کو سرکاری گاڑی پر سیاسی مہم چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

چیف جسٹس نے بلوچستان کے 7 وزرا کو آج رات تک گاڑیاں جمع کرانے کی ہدایت کر دی، گاڑیاں جمع نہ کرانے پر یومیہ ایک لاکھ روپے اور ایک ہفتے بعد دو لاکھ روپے جرمانے کا حکم سنا دیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے گاڑیاں واپس ہونے کے بیان پر مولانا فضل الرحمن اور عبدالغفور حیدری کے نوٹس واپس لے لئے۔

یہ بھی پڑھیں: احتساب عدالت نے نواز شریف،مریم نواز کی درخواست مسترد کردی

چیف جسٹس نے واضح کیا کسی افسر کو 13سو سی سی سے بڑی گاڑی کے استعمال کی اجازت نہیں، ایف بی آر کے افسروں سے لگژری گاڑیاں واپس لینے کا حکم بھی دے دیا، چیئرمین ایف بی آر نے بتایا 57 گاڑیاں واپس لے لی گئیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ بلوچستان سے 49 ، وفاق سے 105 گاڑیاں ریکور کرلی گئیں، تین گاڑیاں فضل الرحمان، کامران مائیکل اور عبدالغفور حیدری کے پاس ہیں، چیف جسٹس نے نیب کو گاڑیوں کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

آصف زرداری اور بلاول کے زیر استعمال گاڑیوں کے استفسار پر فاروق نائیک نے بتایا کہ دونوں ذاتی گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔