ساری زندگی ن لیگ کا بوجھ اٹھایا، جوتیاں نہیں اٹھا سکتا: چودھری نثار


اسلا م آباد( 24نیوز )سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما چودھری نثار علی خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے پتا ہے کہ آپ نے پوچھنا ہے کہ میں ن لیگ میں رہوں گا یا نہیں،دو نمبر لو گوں کی باتوں میں نہ آئیں۔

   چودھری نثار نے  کہا ہے  کہ غلط فہمی  میں نہ  رہیں میں کسی سے  آرڈر نہیں لیتا  ہوں.سیاسی فیصلے اپنی مرضی سے کرتا ہوں. کسی  آزاد  گروپ کا حصہ نہیں ہوں،بڑے  بڑے امتحان آئے کبھی پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا ہے۔چودھری نثارنے پہلے سوالات کرنے کا کہا جب سوالات ہوگئے تو اٹھ کرچلے گئے۔تھوڑی دیر بعد پھر لوٹ آئے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ جب نواز شریف کی نااہلی ہوئی تو ناراض ارکان کا ایک طوفان تھا، چاہتا تھا تو آرام سے 40، 45 ارکان اسمبلی کا گروپ بنا سکتا تھا، دھڑے بندی کیلئے میرے پاس بے شمار ارکان اسمبلی آئے لیکن میں نے سب کو پارٹی میں رہنے کا مشورہ دیا، آپ کو گالیاں دینے والے آج وفادار ہیں، لیکن ساری عمر ساتھ دینے والا اختلاف کرنے پر برا ہے، نواز شریف اور ان کے پیادوں کو کہتا ہوں کہ 34 سال پارٹی کی خدمت کی ہے، پرانے ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے یا خوشامدیوں کو، کسی کی جوتیاں اٹھانا والا نہیں، ساری زندگی کی جوتیاں سیدھی نہیں کی، مسلم لیگ (ن) کے موجودہ 70 فیصد سے زیادہ رہنماؤں نے پارٹی چھوڑی اور پھر جوائن کی۔

ویڈیو دیکھیں:

 چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ لوگ مجھ پر کسی گروپ میں شامل ہونے کا الزام لگاتے ہیں اور  مجھے علم ہے کہ سب کا سوال یہ ہے کہ میں مسلم لیگ (ن) میں رہوں گا یا نہیں؟ یہ سوال پوچھنے اور سوچنے والے میری سیاسی تاریخ دیکھ لیں، گزشتہ 35 سال سے ایک ہی جماعت اور نوازشریف کا ساتھی رہا، بڑے بڑے امتحانات آئے لیکن اپنی جماعت کو نہیں چھوڑا، لہذٰا 2 نمبر آدمیوں کی باتوں میں کوئی نہ آئے۔ آج تک کسی گروپ کا حصہ بنا اور نا ہی آئندہ اس کا امکان ہے اور نہ ہی کبھی پارٹی کو مایوس کروں گا۔

  سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ عمران خان اور نوازشریف بھی میرے سوال پر چپ ہوجاتے ہیں تو میرا کیا قصور؟ عمران خان سے رابطے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان سے کبوتر کے ذریعے رابطہ جاری ہے۔سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ میں نے آج تک کبھی پارٹی سے کہنے کے باوجود کسی عہدے کا تقاضا نہیں کیا، میں واحد شخص تھا کہ  جب پاناما لیکس شروع ہوا تو میں نے نواز شریف کو سپریم کورٹ نہ جانے کا مشورہ دیا۔

 اور کہا کہ  نواز شریف کو نقصان ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد نواز شریف کو قومی اسمبلی میں تقریر نہ کرنے کا بھی مشودہ دیا۔ جے آئی ٹی بنی تو میں نے کہا کہ آرمی چیف کو بلائیں اور کہیں کہ فوج کے بریگیڈئرز اس میں نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ جے آئی ٹی نے فیصلہ ہمارے حق میں کیا تو اپوزیشن اس فیصلے کو متنازع بنا دے گی اور اگر ہمارے خلاف کیا تو ہم شور مچائیں گے۔ نواز شریف نے 2 بار وعدہ کیا لیکن وہ میٹنگ نہیں بلائی گئی۔

 انہوں نے کہا کہ میرا سپریم کورٹ میں کوئی کیس نہیں ہے۔ میں نے کوئی فوج سے تمغہ نہیں لینا۔ ہم خود سپریم کورٹ گئے تھے۔ کس نے کہا تھا جے آئی ٹی قبول کریں اور اس کے سامنے پیش ہوں؟ کمیشن بنانے کے لیے خط بھی لکھا تھا۔ پھر جو فیصلہ آتا ہے وہ کچھ بھی ہو اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔