آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کا پس منظر۔۔۔ کب، کیا ہوا؟

آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کا پس منظر۔۔۔ کب، کیا ہوا؟


لاہور(24نیوز) سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کونیب نےگرفتارکرلیا، نیب پہلےبھی آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں ملوث کئی ہائی پروفائل شخصیات کوقابوکرچکی ہے۔اس کیس میں کب کیاکیاہوا؟
آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی گرفتاری سےسیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔اس اسکینڈل میں اہم پیش رفت تب سامنےآئی تھی جب 21فروری2017کو نیب نےایل ڈی اے کے سابق سربراہ احد خان چیمہ کوآشیانہ سکیم میں مبینہ بدعنوانی کےلیےپوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا جس کےبعد24فروری کوپیراگون سٹی کی ذیلی کمپنی بسم اللہ انجینئرنگ کے مالک شاہد شفیق کو جعلی دستاویزات کی بنیاد پر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا ٹھیکہ لینے کے الزام میں نیب نےگرفتارکیا۔
دونوں گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پہلے انہیں جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا گیا جس کےبعد5مارچ کو ان کے ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع اور پھر 20 مارچ کو مزید 14 روز کے لیے توسیع کردی گئی  تاہم ان کے ریمانڈ میں توسیع کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے جبکہ دونوں ملزمان کے خلاف آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں کیس لاہور کی احتساب عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
آشیانہ اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران سابق ڈی جی ایل ڈی اےاحدچیمہ کی کئی غیرملکی اکاؤنٹس کابھی انکشاف ہوا جبکہ نیب کی جانب سےاربوں مالیت کےاثاثےملنےکےبھی دعوے کیےگئے۔سابق وزیراعظم نوازشریف کے پرنسپل سیکریٹری فوادحسن فوادبھی اسی کیس میں نیب کی تحویل میں ہیں۔فوادحسن فوادکو5جولائی2018کونیب پیشی کےموقع پرگرفتارکیاگیا۔اطلاعات کےمطابق انہی کےانکشافات کےبعدنیب نےسابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کوگرفتارکیا۔آخری پیشی کے موقع پر شہباز شریف اور فواد حسن فواد کو آمنے سامنے بٹھایا گیا تھا۔
21نومبر2017 کوآشیانہ ہاؤسنگ میں اس وقت کےوزیرریلوےخواجہ سعدرفیق کےخلاف بھی نیب نے تحقیقات کاآغازکیا۔خواجہ سعدکےخلاف پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں بھی نیب کی تحقیقات جاری ہیں۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔