امریکا کا ہر مطالبہ پورا نہیں کرسکتے، پاکستان نے واضح کردیا


 اسلام آباد( 24نیوز ) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دورہ پاکستان کے دوران امریکا کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے جب کہ امریکی وزیر خارجہ کے ہمراہ جنرل جوزف ڈنفورڈ اور افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی مشیر زلمے خلیل زادہ ملاقات میں موجود تھے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد امریکی سفارت خانہ کے لیے روانہ ہوئے ہیں جہاں سے وہ بھارت کے لیے روانہ ہو گئے۔اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور مائیک پومپیو کے درمیان دفتر خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی وفد میں امریکی فوج کے جنرل جوزف ڈنفورڈ اور افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی مشیر بھی شریک تھے۔دفتر خارجہ میں ہونے والے مذاکرات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور مائیک پومپیو نے امریکی وفد کی نمائندگی کی۔سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات 30 منٹ تک جاری رہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان سے ڈو مو کا مطالبہ کیا گیا ہے جب کہ پاکستان کی جانب سے بھی بھرپور مؤقف اپنایا گیا۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ پاک امریکا تعلقات میں باہمی مفادات کو دیکھنا ہو گا، پاکستان صرف امریکی مفادات کے لیے نہیں جھکے گا۔

 

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito