سانحہ ساہیوال کے معصوم بچے اور صلاح الدین کا بوڑھا باپ

ثنا نقوی

سانحہ ساہیوال کے معصوم بچے اور صلاح الدین کا بوڑھا باپ


سڑکوں پر پڑی لاشوں کی فوٹیج، حادثات میں کٹے ہوئے انسانی جسموں کے اعضاء، تشدد زدہ جسم اور لہو لہان چہرے یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو نیوز روم میں بیٹھے روز انہ کی بنیاد پر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہ تکلیف دہ مناظر اور قیمتی جانوں کے ضیاع کا دکھ ایک طرف لیکن انہی مر جانے والوں کے پیچھے بے بسی کے عالم میں زندہ رہ جانے والوں کے جذبات او ر ان کا درد ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ معصوم بچی کی آنکھوں کی حیرانی اور ہاتھ میں خالی فیڈر، سانحہ ساہیوال کا سب سے زیادہ دلخراش منظر تھا۔ وہ معصوم آنکھیں جنہوں نے اپنے پیدا کرنے والوں کو دنیا سے اس طرح جاتے دیکھا کہ ان کی معصومیت اور چمک کی جگہ خوف اور حیرانی نے لے لی۔ زخمی بچے رو رو کر بتاتے رہے کہ انہوں نے ہمارے پاپا اور مما کو گولیاں مار دیں۔

 پولیس گردی کے اس واقعہ کو ابھی چند مہنیے ہی گزرے تھے کہ ایک اور بڑا واقعہ سامنے آگیا جس میں اے ٹی ایم سے کارڈ چرانے والا ملزم صلاح الدین جو رحیم یار خان پولیس کی حراست میں تھا دوران تفتیش جاں بحق ہو گیا ۔ ایک اور دل سوز منظر دیکھنے کو ملا ۔سرد خانے میں رکھی صلاح الدین کی لاش کو وصول کرتا ہوا بوڑھا باپ اس وقت بے بسی کی تصویر بنا نظر آیا جب سرد خانے کےڈبےسےلاش کو باہر نکالا گیا۔ کفن میں لپٹے ہوئے چہرے کی رونمائی کے لئے کپڑا ہٹایا گیا ، باپ آگے بڑھا اور دیر تک چہرے کو دیکھتا اور پیار کرتا رہا ۔یہ دلخراش منظر ہماری آنکھوں کے سامنے سے چند لمحوں میں غائب ہو گیا مگر اس چہرے کو دیکھتی ہوئی بوڑھی آنکھوں کے سامنے یقیناًکئی برس پہلے کے مناظر گھومنے لگے ہوں گے ۔باپ اپنے بوڑھے ہاتھوں سے جوان بیٹے کے چہرے پر یوں لاڈ سے ہاتھ پھیر رہا تھا کہ گماں ہو رہا تھا گویا کسی نومولود کو پیار کیا جا رہا ہولیکن سچ تو یہ تھا بیٹے کو مشکلات سے پالنے والاباپ آج کمزور اور بوڑھے کاندھوں پر ایک جوان کی لاش کا بوجھ ڈھونے آٰیا تھا ۔

  صلاح الدین ممکنہ طور پر پولیس تشدد سے جاں بحق ہوا لیکن پولیس کی جانب سے تاحال اس بات کی تردید ہی کی جا ر رہی ہے۔ سانحہ ساہیوال کی طرح اس واقعہ کی بھی یکے بعد دیگرے تصویریں اور ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں۔ منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں صلاح الدین پولیس سے نا مارنے کی شرط پر سوال کرتا ہے کہ تم لوگوں نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے ۔ صلاح الدین کے جسم پر تشدد کے نشانات کی تصویریں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں لیکن المیہ یہ ہے کہ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں صلاح الدین کی موت کی وجہ ہی بیان نہیں کی گئی ۔جسم پر کہیں کہیں ہلکے نیلے دھبوں کے نشانات پائے جانے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ رپورٹ کے مطابق جسم کے تمام اہم اعضاء جیسے سینہ ، کھوپڑی دل ، گردے سب صحت مند تھے ۔ تاہم پولیس کے مطابق جسم کے مختلف حصوں کے نمونے فرانزک کے لیے بھجوادئیے گئے ہیں موت کی وجہ کیا بنی اب اس کے لیے فرانزک رپورٹ کا انتظار کرناہوگا۔ اور پھر مزید تفتیش کے لئے میڈیکل بورڈ بنا دیا گیا ۔یہ وہی مہینوں نا ملنے والی فرانزک رپورٹس، وہی جے آئی ٹیز ، وہی میڈیکل بورڈز ہیں جو اس نوعیت کے سینکڑوں کیسز میں بنائے جاتے رہے ہیں جن کا کسی مظلوم کو فائدہ تو دور کی با ت الٹا وہ انتظار کی سولی پر لٹک جاتے ہیں۔لمحہ بہ لمحہ تفتیش میں بہت سے ایسے شواہد سامنے آ رہے ہیں جس سے ملزمان کے گرد گھیرا تنگ ہوتا نظر آ رہا ہے لیکن تشدد کا الزام سچ بھی ثابت ہو جاتا ہے تو کیا ہو گا سانحہ ساہیوال میں مقتولین کو دہشت گرد قرار دے کر عوام کی حماتیں حاصل کرنے ور اپنا جرم چھپانے کی کوشش کی طرح اس میں بھی آسانی سے اس کے چور ہونے کو سہارا بنایا جائے گا لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کوئی چور ہے تو کیا ماورائے عدالت اسے قتل کر دیا جائے ؟ کیا اسے اپنی صفائی کا کوئی موقع نا دیا جائے ؟

اور یہ تو ان واقعات کی بات ہے جو منظر عام پر آنے کی وجہ سے عوام کی توجہ حاصل کر گئے بیشتر واقعات ایسے ہیں جنہیں اندر کھاتے ہی غائب کر دیا جاتا ہے۔ نئے پاکستان میں بھی پولیس کی روش وہی پرانی ہی رہیاور پولیس گردی کی بد ترین مثال سانحہ ماڈل ٹاون کے خلاف اعلان جنگ کرنے والے حکمران بھی اب تک ان نام نہاد قانون کے رکھوالوں کے رویے میں تبدیلی لانے میں ناکام ہیں۔ اختیارات کا ناجائز استعمال، مار پیٹ، تشدد ، جھوٹے مقدمات ، رشوت خوری جیسے واقعات سامنے آنے پر بھی ان کالی بھیڑوں کو چند روز کے لئے معطل کیا جاتا ہے اور مزید کسی کاروائی کے لئے کمیٹیوں کی رپورٹس کا انتظار کیا جانے لگتا ہے۔ انصاف مانگنے والے بھی منصفوں کی سست روہی سے مایوس ہو کر گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں اور قانون کے رکھوالے کھلم کھلا قانون کی خلاف ورزیاں کر نے کے بعد سرکاری اسلحے کے زور پر پھر دندناتے پھرتے ہیں۔

کہتے ہیں انصاف کادیر سے ملنا انصاف نا ملنے کے مترادف ہےلیکن ہمارے ملک میں دیر بھی نہیں اندھیر ہے۔ یہاں کب کس کے ساتھ کیا ہو جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا ۔پولیس کے نظام کو تبدیل کرنے کے لئے کوئی موثر قوانین بنائے ہی نہیں جاتے اور اگر بن بھی جائیں تو ان پر عمل درآمد کے لئے کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی ۔ حکومتیں بدلتی رہیں گی ، تبدیلیوں کے نعرے لگتے رہیں گے مگر نظام بدلتا ہوا نظر نہیں آرہا کیوں کہ ایسے واقعات کے بعد اظہار افسوس کے ٹویٹس کرنے والے حکمران بھی سابقہ حکومتوں کی طرح مظلوموں کے انصاف کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات کرتے نظر نہیں آتے ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کی اپنی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔