مشیرخزانہ حفیظ شیخ پالیسیوں کے دفاع کیلیے میدان میں آگئے

مشیرخزانہ حفیظ شیخ پالیسیوں کے دفاع کیلیے میدان میں آگئے


اسلام آباد( 24نیوز ) مشیرخزانہ حفیظ شیخ نے کہاپاکستان پر 30ہزارارب کاقرضہ چڑھ چکا،حکومتی اقدامات سےکرنٹ اکاؤنٹ خسارےمیں کمی آئی،جی آئی ڈی سی کا فیصلہ قانون اور آئین کے مطابق کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے وفاقی وزراء کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جی آئی ڈی سی کا فیصلہ قانون اور آئین کے مطابق کیا جائے گا یہ فیصلہ عوام کے مفاد میں کیا جائے گا , کسی اور کے مفاد کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جائے گا جی آئی ڈی سی آرڈیننس میں مکمل شفافیت رکھی جائے گی۔

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ اقتصادی صورتحال کو بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں جب حکومت میں آئے کافی مشکلات تھیں،قرضے 30 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے تھے معاشی استحکام لانے کی کوشش کی گئی، آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کیا گیا،کفایت شعاری کا پروگرام شروع کیا گیا، دفاعی بجٹ کو منجمند کیا گیا بڑے بڑے جنرلز اور سیکریٹریز کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔

 حفیظ شیخ نے کہا کہ ایکسپورٹس میں اضافہ ہورہا ہے، درآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جاری کھاتوں کا خسارہ کم ہورہا ہے،جولائی اگست میں 580 ارب روپے کے ٹیکسز اکٹھے کیے گئے، درآمدات میں کمی کی وجہ سے ٹیکسز کم ہوئے ہیں، پچھلے سال ٹیکس فائلرز کی تعداد 19 لاکھ تھی اس سال ٹیکس فائلرز کی تعداد 25 لاکھ ہوچکی ہے۔

حفیظ شیخ نے اعلان کیا کہ 2015 سے اب تک جتنے بھی ری فنڈز ہیں ان کی تصدیق کے بعد جاری کردیا جائے گا، ایکسپورٹرز کے ری فنڈز ہر ماہ کی 16 تاریخ کو جاری کردیے جائیں گے، روپیہ مستحکم ہورہا ہے، نان ٹیکس آمدن میں 800 ارب روپے کا اضافہ ہوگا، 8 ماہ میں پاور سیکٹر کی وصولیوں میں 120 ارب روپے اضافہ ہوا،سرکلر ڈیبٹ میں ماہانہ اضافہ 38 ارب روپے سے کم ہوکر 10 ارب روپے کردیا گیا ہے۔

مشیر خزانہ کا مزید کہناتھا کہ اگلے سال دسمبر تک سرکلر ڈیبٹ کو ختم کرنا چاہتے ہیں،ایکنک نے 579 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے منظور کیے ہیں، زرعی شعبہ کے لیے 250 ارب روپے کے منصوبے منظور کیے گئے ہیں، زرعی شعبہ کا مقررہ ہدف آسانی سے حاصل کرلیں گے، اس شعبہ کی پیداوار 3.5 فیصد رہے گی۔