’’ زرداری صاحب کے پاس چار پانچ سو ووٹ نکلتے ہیں‘‘


اسلام آباد ( 24نیوز )سابق وزیر اعظم نواز شریف ،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی گئی جس میں تینوں پیش ہوئے لیکن احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نہیں آئے، نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء بھی عدالت میں پیش ہوئے تاہم فاضل جج محمد بشیر کی ناساز طبیعت کے باعث سماعت 9 اپریل تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

یاد رہے کہ وکیل صفائی خواجہ حارث کو آج مسلسل آٹھویں سماعت پر واجد ضیاءپر جرح کرنا تھی جب کہ اس سے قبل جے آئی ٹی سربراہ مسلسل 6 سماعتوں کے دوران اپنا بیان ریکارڈ کراچکے ہیں،خواجہ حارث کی جرح مکمل ہونے کے بعد مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے وکیل امجد پرویز جرح شروع کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی بربریت کیخلاف سب پاکستانی کشمیری بھائیوں کے ساتھ یک زبان

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے گزشتہ روز کہا کہ انتخابات ملتوی ہونے کی گنجائش نہیں، ان کی بات اچھی لگی لیکن وہ اپنے ایکشن سے بھی ثابت کریں۔،احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں جو کچھ ہوا اور سینیٹ انتخابات میں جو بندر بانٹ کی گئی سپریم کورٹ اس پر ازخود نوٹس لے۔

نواز شریف نے کہا کہ اگر چیف جسٹس شفاف انتخابات کا کہتے ہیں تو وہ نہیں ہونا چاہیے جس کی نشاندہی کی ہے اور وہ اپنے ایکشن سے بھی ثابت کریں، ہم انتخابات کسی صورت ملتوی نہیں ہونے دیں گے، سول سوسائٹی، قانون دان اور عوام بھی انتخابات کا التوا نہیں ہونے دیں گے، مجھے جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دیں، کال دینے کی نوبت آئی تو کال دونگا، جیل کے اندر ہوں یا باہر ہوں، جہاں سے بھی آواز دوں گا عوام نکلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں سب کے لیے مساوی مواقع ہونے چاہییں،  کسی کے ہاتھ باندھ رہے ہیں اور کسی کو کھلا چھوڑ رہے ہیں، عمران خان نے اپنا جرم تسلیم کا لیکن اسے چھوڑ دیا گیا اور مجھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نکال دیا گیا، ان کے خلاف احتساب عدالت میں زیرسماعت مقدمے کا اوپن ٹرائل ہونا چاہیے تاکہ عوام کو بھی پتہ چلے کہ مقدمے میں کیا ہے اور ہوکیا رہا ہے، حقائق قوم کے سامنے ا?نے چاہیے، یہ جھوٹا کیس ہے جس میں سب کچھ ہے اگر نہیں ہے تو کرپشن نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور شیخ رشید کے بعد نواز شریف نے بھی لعنت بھیج دی

نواز شریف نے کہا کہ نیب قانون کو کالا قانون سمجھتا ہوں جسے ایک ڈکٹیٹر نے مجھے سزا دینے کے لیے بنایا تھا، مجھ پر کیس چل رہا ہے اس لئے اس قانون کو ختم کرنے کے حق میں نہیں لیکن جب حکومت میں آئیں گے تو اس قانون کو اللہ کے حکم سے ختم کردیں گے، نیب قانون کو نگران حکومت کے دوران غیر موثر کردیا جائے، اس قانون کا ناجائز طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے اور جو بھی طاقتیں ہیں وہ انتخابات میں اس کا ناجائز استعمال کریں گی۔دیکھتے ہیں کیس میں کیا نکلتا ہے-

آٓصف زرداری کے چیلنج سے متعلق سوال پر نواز شریف نے کہا کہ زرداری صاحب چیف منسٹری چھیننے سے پہلے حلقوں سے ووٹ تو لے لیں، پنجاب کے حلقوں میں زرداری صاحب کے پاس چار پانچ سو ووٹ نکلتے ہیں، حلقہ این اے 120 میں ہمارے لوگوں کو اٹھایا، ورکرز نے آکر خود بتایا کہ رات کے اندھیرے میں انہیں اٹھایا گیا اور انہیں چھوڑا بھی رات کے اندھِرے میں گیا۔

نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم سے کہا تھا کہ اٹھائے جانے والے کارکنوں کے معاملے کی انکوائری کریں۔

ویڈیو دیکھیں۔۔