آصف زرداری کی پنجاب چھیننے کی بڑھک،کیا ایسا ہو پائے گا؟

آصف زرداری کی پنجاب چھیننے کی بڑھک،کیا ایسا ہو پائے گا؟


اسلام آباد(ویب ڈیسک)پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اپنے سسر ذوالفقار علی بھٹو کی برسی میں پرجوش خطاب کیا ،اب کی بار وہ کسی اور کی نہیں نواز شریف کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر تلے ہوئے تھے جوش خطابت میں میاں صاحب سے پنجاب چھننے کی بات کرگئے،اب سوال یہ ہے کہ زرداری صاحب ایساکر پائینگے یا سندھ بھی گنوا دینگے؟

بات کو طول دینے کیلئے ماضی میں چلتے ہیں ایک وقت تھا، جب پیپلزپارٹی جہاں چاہتی ہزاروں کیا لاکھوں لوگ بھی باآسانی جمع کرلیتی تھی، جس کی وجہ عوام کی خدمت نہیں بلکہ بھٹو خاندان سے جیالوں کی دیوانہ وار محبت تھی،اب صورتحال یہ ہے کہ پنجاب میں چند سو کا جلسہ بھی کرنا ہوتو کئی دن محنت کرنا پڑتی ہے، بھٹو کے نام پر بننے والی پارٹی کو ذوالفقار علی بھٹو کے جانے کے بعد کسی حد تک دھچکا ضرور لگا مگر اس کی بیٹی نے اپنی محنت سے نا صرف پارٹی کو ٹوٹنے سے بچایا بلکہ ایک بار پھر مضبوط سے مضبوط بنایا۔ لیکن پھر وقت نے پلٹا کھایا، کہ جس بیٹی کے کاندھوں پر پوری پارٹی کا وزن تھا اس کو دہشتگردوں نے نشانہ بناڈالا، اور اگر یہ کہا جائے کہ دہشتگردوں نے محض بے نظیر بھٹو کو نشانہ نہیں بلکہ پوری پارٹی کو نشانہ بنایا ہے تو یہ ہر گز غلط نہ ہوگا۔

آپ سوچ رہے ہونگے کہ بھلا ایسا کیوں ہوا؟ تو ایسا اس لیے ہوا کہ بینظیر کی دنیا سے رخصتی کے بعد یہ امید تھی کہ پارٹی کے کسی سینیئر ممبر کو پارٹی کی بھاگ دوڑ کی ذمہ داری دی جائے گی مگر بادشاہت پر مبنی جماعتوں میں ایسا کہاں ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پارٹی کی قیادت کا قرعہ نکلا آصف علی ذرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے نام۔

یہ بھی پڑھیں: ”دیکھتے ہیں کیس میں کیا نکلتا ہے“

اگرچہ 2008 کے انتخابات نے محترمہ کے المناک حادثے کے بعد عوام نے پیپلزپارٹی کو ووٹ دے کر ایوانوں تک پہنچایا مگر ایوان میں پہنچنے کے بعد یہ عوامی جماعت عوام سے اِس طرح دور ہوئی کہ جس طرح بلی کو دیکھ کر چوہا دور بھاگ جاتا ہے۔ اِس نااہلی کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس پارٹی کو ملک بھر کی پارٹی کہا جاتا تھا وہ سمٹ کر محض ایک صوبے کی پارٹی بن گئی،اس الیکشن میں کامیابی زرداری صاحب کی حکمت عملی نہیں۔ بھٹو خاندان کی مظلومیت جیتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کے بعد زرداری نشانے پر آگئے

سب کے سامنے ہے کہ پہلے مئی 2013ءکے عام انتخابات تو پھر بلدیاتی اور ضمنی انتخابات میں یہ پارٹی خوب پٹی،قومی اسمبلی میں یہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت تو بن گئی لیکن یہ کردار بھی نہ نبھا سکی اور ”فرینڈلی اپوزیشن“کے داغ سے داغدار ہوگئی،یہ اس جماعت کی نااہلی تھی کہ کم نشستیں لینے والی جماعت پی ٹی آئی حزب اختلاف کے کردار کو لے اڑی ،ایسی اپوزیشن کی کہ پورے پانچ سال حکومت کوسکھ سانس نہیں لینے دیا،حتیٰ کہ اس کی وجہ سے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔

2008 سے 2013 تک اپنے عہد اقتدار میں زرداری ہاتھ پر ہاتھ دھرے محض ڈرائنگ روم کی سیاست فرماتے رہے اور ملک مختلف بحرانوں اور طوفانوں میں گھرا رہا یہی وجہ تھی کہ نوازشریف 2013 کا الیکشن جیتے اور حقیقی اپوزیشن کا کردار بھی پیپلز پارٹی کی بجائے عمران خان لے اڑے،سوال یہ ہے کہ زرداری صاحب کو نواز شریف پر اتنا غصہ کیوں ہے؟ جو صلح کی بجائے طبل جنگ بجا رہے ہیں، ڈوبتے کو تنکے کا سہاراکے مصداق پیپلز پارٹی اپوزیشن کا کردار بچانے کیلئے ہاتھ پاﺅں ماررہی ہے،کیونکہ عام انتخابات کے بعد کا منظر صاف دکھا رہا ہے کہ تحریک انصاف ملک کی پہلی نہیں تو دوسری بڑی پارلیمانی پارٹی ضرور بنے گی۔