ن لیگ کا زوال شروع، مزید 2ایم این ایز نے راہیں جدا کر لیں


اسلام آباد (24 نیوز) الیکشن قریب آتے ہی پاکستان کی اقتدار میں موجود جماعت مسلم لیگ ن کی وکٹیں ایک ایک کر کے گرنے لگیں۔ پانچ سال تک حکومت اور جماعت کے ساتھ رہنے والے آئندہ انتخابات میں ن لیگ کا ٹکٹ قبول کرنے کو تیار نہیں۔

24 نیوز کے مطابق میاں نوازشریف اوران کی بیٹی چاہے جتنے مرضی بڑے جلسے کر لیں مگر حقیقت یہ ہے کہ پارٹی کی صفوں میں ایک کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب ن لیگ کی کوئی بڑی وکٹ نہ گرتی ہو۔

یہ بھی پڑھئے: میاں نواز شریف کو چیف جسٹس کی باتیں اچھی لگنے لگیں 

ن لیگ کے کھلاڑی ایک ایک کر کے آؤٹ ہوتے جا رہے ہیں اور ایک دوسرے سے بازی لے جاتے ہوئے پی ٹی آئی کے پویلین میں جانے میں عافیت محسوس کر رہے ہیں۔ ممبر قومی اسمبلی بلال ورک اور رمیش کمار نے بھی ن لیگ کو الوادع کہہ دیا۔

ن لیگ کے لیے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ پارٹی چھوڑنے والے عام ارکان اسمبلی ہی نہیں، ایسے بھی ہیں جنہیں وفاقی اور صوبائی وزارتوں سے بھی نوازا گیا۔

ایک روز پہلے بلوچستان سے دو وفاقی وزرا ن لیگ کوچھوڑ گئے۔ اختلافات اتنے شدید ہیں کہ کمالیہ میں اتوار کو ہونے والے شہبازشریف کے جلسہ میں وفاقی وزیر جنید انور اور صوبائی وزیر امجد علی جاوید سمیت ارکان اسمبلی عبدالقدیراعوان، نازیہ راحیل اور میاں رفیق نے بھی شرکت سے انکار کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق لیگی ارکان اسمبلی کی ایک بڑی تعداد اب بھی لائن میں لگی ہے جو میاں نواز شریف سے سیاسی راہیں جدا کرنا چاہتے ہیں۔ ن لیگ کے مخالفین خصوصاً پی ٹی آئی کی حکمت عملی ہے کہ وہ ایک ساتھ نہیں بلکہ ایک ایک کر کے ن لیگ کی وکٹیں گرا رہے ہیں۔

پڑھنا نہ بھولئے: نواز شریف کے بعد زرداری نشانے پر آگئے 

تحریک انصاف کی اس کامیاب حکمت عملی سے جہاں ن لیگ کے لیے ہر روز سیاسی پریشانیاں لے کر آتا ہے وہیں اس تاثر کا خاتمہ بھی ہوتا ہے کہ ن لیگ چھوڑنے والے کسی طاقت ور کے کہنے پر ایسا کر رہے ہیں۔