ٹیکس ایمنسٹی سکیم کیا ہے اور پاکستان میں کیسے متعارف کیا گیا؟


اسلام آباد (24 نیوز) ٹیکس ایمنسٹی سکیم کوئی انوکھی چیز نہیں۔ مختلف ممالک میں ایسی سکیمیں رائج ہیں۔ البتہ پاکستان میں جن پُر کشش شرائط پر اس سکیم کو متعارف کیا گیا۔ اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔

24 نیوز کے مطابق ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت زیادہ تر ملکوں میں ٹیکس کی شرح یا اس سے بھی زیادہ ٹیکس کی وصولی کی جاتی ہے لیکن پاکستان میں ٹیکس چوروں کو سزا یا جرمانہ کے بجائے الٹا ٹیکس میں رعایت دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آصف زرداری کی پنجاب چھیننے کی بڑھک،کیا ایسا ہو پائے گا؟ 

نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت اندرون ملک اثاثے چھپانے اور ٹیکس چوری کرنے والے صرف پانچ فیصد ٹیکس دے کے تمام دولت کو قانونی بنا سکتے ہیں۔ یہ شرح ٹیکس کی موجودہ شرح سے 86 فیصد تک کم ہے جبکہ اس وقت، ٹیکس کی موجودہ شرح 7 سے 35 فیصد تک ہے۔

بھارت نے 2016 میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا لیکن سکیم کے تحت اثاثے ظاہر کرنے والوں سے 45 فیصد کی شرح سے ٹیکس وصول کیا گیا۔ اس سے بھارتی حکومت کو 294 ارب روپے کی وصولیاں ہوئیں۔

پڑھنا نہ بھولیں: میاں نواز شریف کو چیف جسٹس کی باتیں اچھی لگنے لگیں 

حالیہ چند برسوں میں امریکہ، آسٹریلیا، کنیڈا، جرمنی سمیت متعدد ممالک نے ٹیکس چوروں اور بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے کے سلسلہ میں مختلف ایمنسٹی سکیموں کا اعلان کیا لیکن کسی بھی ملک میں اثاثے ظاہر کرنے والوں سے رعایتی شرح سے ٹیکس وصول نہیں کیا گیا۔

ٹیکس پورا ہی وصول کیا گیا۔ صرف جیل نا بھیجنے کی رعایت برتی گئی۔

مزید اس ویڈیو میں: