طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پاکستان، افغانستان متفق


کابل (24 نیوز) وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے دورہ افغانستان میں صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں کیں جن میں دہشت گردی، پاک افغان بارڈر، طالبان اور مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

24 نیوز کے مطابق وزیراعظم نے دورہ کے دوران افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور وفود کے سطح پر مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغانستان میں موجود ساتھیوں کا ہدایات لینے کا ڈیٹا بھی افغان صدر کو دیا۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے بارڈر منیجمنٹ کو ناگزیر قرار دے دیا۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ افغان سرحد پر نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ مرتب کرے۔ افغانستان نے افغان حکومت سے مہاجرین کی باعزت اور بروقت واپسی، افغانستان میں پاکستانی سفارتی عملہ کی سلامتی یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے قندوز حملہ کی مذمت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا یہ حملہ مفاہمتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ افغان حکومت طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اقدامات کرے۔ وزیراعظم نے افغان صدر اشرف غنی کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔

قبل ازیں افغان صدراتی محل پہنچنے پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو افغان فورسز نے گارڈ آف انر پیش کیا۔ وزیراعظم پاکستان نے افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے ظہرانہ میں شرکت کی اورنماز جمعہ بھی دونوں سربراہوں نے ایک ساتھ ادا کی۔