عدالت نے نواز شریف کو بیٹے حسین نواز کے رحم و کرم پرچھوڑدیا

عدالت نے نواز شریف کو بیٹے حسین نواز کے رحم و کرم پرچھوڑدیا


اسلا م آباد( 24نیوز )سابق وزیر اعظم نوازشریف کی جانب سے العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز کی دوسری عدالت منتقلی کی درخواست پر سماعت ہوئی، ڈپٹی پر اسیکیوٹر نیب سردارمظفر نے دوران سماعت دلائل دیئے کہ اگر حسین نواز آکرکہہ دیں کہ یہ جائیداد میں نے خریدی ہے تو میاں صاحب بری ہوجائیں گے یہ تینوں ریفرنسز ایک نوعیت کے نہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل اورنگزیب پر مشتمل دورکنی بینچ نے فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز دوسری عدالت منتقل کرنے کی نوازشریف کی درخواست پر سماعت کی، ڈپٹی پروسیکیوٹر جنرل نیب سردارمظفر نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے دلائل دیئے کہ پچھلے دس ماہ سے احتساب عدالت ایون فیلڈ سمیت دیگر دو ریفرنسز کی سماعت کررہی ہے۔

ملزمان نے تینوں ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست ہائی کورٹ سے مسترد ہونے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا،اگر جج ایک کیس میں فیصلہ دے چکا تو وہ کس طرح اسی نوعیت کا دوسرا کیس نہیں سن سکتا، اس طرح تو ایک جج اپنی پوری زندگی میں ایک نوعیت کا ایک ہی کیس سنے گا۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر کاکہناتھا کہ ملزمان کو دوران ٹرائل جرح اور دفاع پیش کرنے کا ہر موقع فراہم کیاگیا، سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کی تحقیقات میں 1980کا معاہدہ اور طارق شفیع کے بیان حلفی درست ثابت نہیں ہوئے،ٹرائل کورٹ میں ہم نے شواہد سے ثابت کیا کہ 1980کے معاہدے کا وجود نہیں۔جسٹس میاں گل نے ریمارکس دیئے کہ اگر ملزمان اب دفاع میں کچھ پیش نہیں کرتے تو یہ اپنے پاو¿ں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک اور ن لیگی زبان کی پکڑ میں آگیا،پوزیشن کو خطرہ

سردار مظفر نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف نے پارلیمنٹ کے فلور پر کہا کہ میرے بچوں کا نام پانامہ پیپرز میں ہے، اگر حسین نواز آکر یہ کہہ دیتا ہے کہ یہ جائیداد میں نے خریدی ہے تو میاں صاحب بری ہوجائیں گے۔ہم نے قطری شہزادے کو موقع دیا کہ وہ آکر اپنے خطوط کی وضاحت کرے۔ملزمان کے پاس آپشن تھا کہ وہ بھی قطری کا بیان قلمبند کرالیتے، قطری اپنے بیان میں بارہ ملین کے حوالے سے بتاتا تو ہمیں بھی جرح کا موقع ملتا۔۔۔ ملزمان کوئی دفاع کیئے بغیر کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا دفاع مشترک ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے جو ہم سمجھے ہیں اس کے مطابق بنیادی بار ثبوت استغاثہ پر تھا، دیکھنا ہوگا کہ استغاثہ نے ذمہ داری پوری کی اور بار ثبوت ملزمان پر منتقل ہوا،ریفرنس منتقلی کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کردی گئی، ڈپٹی پروسیکیوٹر جنرل نیب کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔