مقبوضہ کمشیر کا سنجیدہ مسئلہ: اراکین اسمبلی کی غیر سنجیدگی، بچے بن گئے

مقبوضہ کمشیر کا سنجیدہ مسئلہ: اراکین اسمبلی کی غیر سنجیدگی، بچے بن گئے


اسلام آباد(24نیوز) گزشتہ روز بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیا ۔بھارتی حکومت کی جانب سے صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے خصوصی اختیارات سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گی اور لداخ بھی بھارتی یونین کا حصہ ہو گا۔ مودی سرکار نے یہ بل ایوان میں پیش کیا تو  ایوان میں اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کیخلاف خوب ہنگامہ کیا۔ پاکستان نے بھی اس فیصلے کو مسترد کردیا اور مختلف شہروں میں بھارت کے اس کالے قانون کو مسترد کرتے ہوئے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں نکالی گئیں۔ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں  مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے برہان وانی چوک میں ٹائر جلا کر بھارت مخالف احتجاج کیا گیا،مظاہرین نے کالے جھنڈے اٹھا رکھے اور بھارت مخالف ، آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے۔

پاکستان نے کشمیریوں کے حقوق پرڈاکاڈالنےپربھارت کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نےٹوئٹرپیغام میں کہاکہ پاکستان کشمیریوں کےحق خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے۔اپنے مؤقف سےعالمی برادری کوآگاہ کریں گے۔مشیربرائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نےکہا ریاستی دہشتگردی کرنے والے بھارت کامکروہ چہرہ دنیاکےسامنےبےنقاب ہوگیا۔ پاکستان بھارت کے گھناؤنےعمل کومسترد کرتا ہے.اپوزیشن لیڈر  شہباز شریف نے بھارتی اقدام کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کا فیصلہ اقوام متحدہ کے خلاف اعلان بغاوت اور جنگ ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  انتہاپسند بھارت کی نیت واضح ہوگئی ہے،   کشمیریوں پر بھارت کے مظالم ناقابل برداشت ہیں۔

حکومت، اپوزیشن رہنماؤں  کے بیانات کے بعد ایسا محسوس ہورہا تھا کہ پیر کے روز ہونے والا قومی اسمبلی اجلاس بھی کافی پرجوش ہوگا اور تمام پارلیمنڑین اپنی روایت توڑ کر وقت سے پہلے اجلاس میں شرکت کریں گے اور اپنا بھرپور موقف دنیا کے سامنے رکھیں گے۔قومی اسمبلی کا اجلاس مقامی وقت کے مطابق شام کے چار بجے شروع ہونا تھا لیکن شام 5 بجے تک ایک درجن سے زائد اراکین جمع نہ ہوئے۔ ایوان سے زیادہ لوگ پریس گیلری میں دکھائی دیئے۔ 

ضرور پڑھیں:انکشاف، 24 اگست2019

پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان کچھ دیر کے لیے ایوان میں موجود رہے اور پھر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے عملے کے اراکین سے گفتگو کرنے کے بعد چلتے بنے۔ تاہم وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ اجلاس میں آئے تو ایوان میں کچھ ہلچل دکھائی دی ، حکمران اتحاد کے اراکین نے اُنھیں گھیر لیا  اور بعض اہم معاملات پر گفتگو کی۔ 

قومی اسمبلی کے اجلاس شروع ہوا تو ڈپٹی اسپیکر نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر بھارتی فیصلے کی مذمت کی۔ڈپٹی اسپیکر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کے حملوں کی مذمت کرتی ہے، بھارت نےکشمیر سے متعلق آئینی شق ختم کرنے کا ڈھونگ رچایا ہے۔اجلاس میں نہ تو لیڈر آف دی ہاؤس عمران خان تشریف لائے اور نہ ہی حزب اختلاف  شہباز  آئے۔ ڈپٹی سپیکر نے جب اجلاس 8 اگست بروز جمعران  تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا تو  موجود چند اراکین لابی کی طرف ایسے تیزی سے بھاگے  جیسے بچے سکول میں چھٹی ہونے کے بعد گھروں کو جانے کے لیے بھاگتے ہیں۔ پارلیمنٹرین کی اس غیر سنجیدگی پر وہاں پر موجود سب صحافی بھی حیران دکھائی دیئے۔ تاہم آج ( منگل) کے روز ہونے والے مشترکہ اجلاس میں ہمارے رہنماؤں کا کیا رویہ ہوگا کس طرح دنیا کو پیغام پہنچائیں گے یہ وقت بتائے گا۔ 

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔