ہم ٹیپو سلطان کا راستہ اختیار کریں گے،وزیراعظم کا بھارت کو پیغام



اسلام آباد(24نیوز) مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال  کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہوگیا ہے۔ 

وزیراعظم کا پارلیمنٹ سے خطاب:

وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پرمودی سرکار کو دوٹوک پیغام دے دیا، کہتے ہیں مودی سرکارنازیوں جیسی حرکت کررہی ہے،ایک راستہ بہادرشاہ ظفرکا ہے اورایک ٹیپوسلطان کا ہے،ہم ٹیپو سلطان کا راستہ اختیار کریں گے، انہوں نے کشمیر میں کچھ کیاتوپلوامہ جیساردعمل آسکتاہے۔

وزیراعظم  عمران خان نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سیشن کوپوری دنیادیکھ رہی ہے،یہاں سے پیغام جاناچاہئے پوری قوم متحد ہے،بھارتی فیصلے کے پوری دنیاپراثرات ہوں گے۔ہماری حکومت کی پہلی ترجیح غربت کاخاتمہ تھا، ہماری کوشش تھی ہمسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کریں ،ہمیں مذاکرات کی کوشش کی لیکن بھارت سنجیدہ نہیں تھا،

بھارت کوبتایاکہ ہم حالات خراب نہیں کرناچاہتے،مودی سے بات کی توانہوں نے دہشت گردی کامعاملہ اٹھایا. بھارت کانظریہ ہے کہ مسلمانوں کواقلیت بنائیں،بھارت نے کل جوکیاایک دم نہیں کیا،یہ ان کی آئیڈیالوجی ہے.مودی نے کل جوحرکت کی ہمیں اس کااندازہ تھا۔

انھوں نے کہا کہ قائداعظم نے دوقومی نظریہ ریاست مدینہ سے لیا۔ کشمیرکی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرناجنیواکنونشن کی خلاف ورزی ہے،بھارت نےاقوام متحدہ کی قراردادوں اورشملہ معاہدےکی خلاف ورزی کی ہے،بھارتی اقدام سےکشمیریوں کی جدوجہدآزادی اورتیزہوگی،موجودہ حالات روائتی جنگ کی طرف جاسکتے ہیں۔ میں جوہری ہتھیاروں کولے کربلیک میل نہیں کررہا، بھارتی اقدام کیخلاف ہرمحاذپرلڑیں گے۔ وقت ہے کہ عالمی برادری ایکشن لے،جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں معاملہ اٹھائیں گے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس شروع ہوگیا ہے جس میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر بھی شریک ہیں۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، اپوزیشن لیڈر شہبازشریف، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، رضا ربانی بھی اجلاس میں شریک ہیں۔وزیراعظم بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں پہنچ چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان بھی آج مشترکہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

احکومت کی طرف سے اعظم سواتی نے قرارداد پیش کی جس پر اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے اعتراض کیا کہ ایجنڈے میں آرٹیکل 370 کا معاملہ شامل نہیں، پیپلزپارٹی کے رضا ربانی نے کہا کہ قرارداد میں آرٹیکل 370 کا ذکر نہیں اس میں ترمیم کی جائے جس پر شیخ رشید نے بھی اس کی حمایت کی اور آرٹیکل 370 شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔اپوزیشن کے مطالبے پر حکومت نے قرارداد میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کو شامل کیا اور اعظم سواتی نے قرارداد پڑھ کر سنائی۔

قرارداد پر بحث کے لیے اسپیکر نے دعوت تو جیسے ہی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری بحث کے لیے کھڑی ہوئیں تو اپوزیشن نے احتجاج شروع کردیا اور ایوان میں شورشرابا شروع ہوگیا۔اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کو ایوان میں بلانے کا مطالبہ کیا گیا، ایوان میں شور شرابے پر اسپیکر نے اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کردیا۔ 

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔