بابری مسجد کی شہادت کو 25 سال گزر گئے، مسلمان آج تک انصاف کے منتظر


نئی دہلی(24نیوز) دسمبر نے بھارت میں بابری مسجد پر ہندو انتہا پسندوں کے حملے کی یاد پھر تازہ کر دی، پچیس برس پہلے ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں کے جذبات کا خون بہایا، بی جے پی کی حکومت نے مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کی تحریک شروع کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق انیس سو بانوے میں دسمبر کی 6 تاریخ وہ نحس دن تھا، جب بھارتی ریاست اترپردیش میں مغلیہ دور کی بابری مسجد پر ہندو انتہا پسندوں نے دھاوا بول دیا، یہ واقعہ بی جے پی کی مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا شاخسانہ تھا۔

بھارتی جنتا پارٹی نے انتہا پسند تنظیموں سے مل کر بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی تحریک شروع کی، بی جے پی کا دعوی تھا کہ یہ رام کی جائے پیدائش ہے، 1859 میں انگریزوں نے اس جگہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا، اندر کا حصہ مسلمانوں اور باہر کا ہندووں کے پاس تھا۔

6 دسمبر 1992 کو ہندو انتہا پسند ہندوں نے بی جے پی کے ایما پر تاریخی مسجد کو شہید کر دیا، اس حملے کو آپریشن جنم بھومی کا نام دیا گیا، آپریشن کے لئے سابق فوجیوں کو ایک ماہ پہلے خفیہ تربیت بھی دی۔

مسجد کی شہادت پر مسلمان بھی بھڑک اٹھے، فسادات پھوٹ پڑے، تین ہزار مسلمان شہید کر دئیے گئے، حملے میں ملوث کسی بھی ملزم کے خلاف کارروائی نہ ہونے نے بھارت کے سیکولرازم کے ڈھونگ کا پول کھول دیا۔