سابق صدر آصف زرداری کیخلاف ثبوت نہ مل سکے

سابق صدر آصف زرداری کیخلاف ثبوت نہ مل سکے


کراچی(24نیوز) جعلی بنک اکاؤنٹس کیس میں ڈی جی ایف آئی اے کے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف ثبوت کے نعرے محض کھوکھلے دعوے نکلے۔ ثبوتوں کا کھوج لگانے والے ایف آئی اے حکام میں ناکامی پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔

 دعوے بہت بڑےلیکن ثبوت کوئی نہیں۔ جعلی بینک اکاؤنٹس کے معاملے میں ڈی جی ایف آئی اے کے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف ثبوت ہونے کے دعوے ہوا میں اڑ گئے۔ ٹوئنٹی فور نیوز کو ملنے والے حقائق کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ اور مشکوک ٹرانزیکشنز رپورٹ آر ٹی ایس کا جرم اسٹیبلش نہیں ہوسکا۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ جے آئی ٹی کو ملنے والے نام نہاد شواہد اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے زمرے میں نہیں آتے کیونکہ آصف علی زرداری کے خلاف جے آئی ٹی کے پاس عائد الزامات کے براہ راست ثبوت موجود ہی نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود جعلی اکاؤنٹس یا منی لانڈرنگ کے ٹھوس ثبوت نہ تو منظر عام پر آسکے اور نہ ہی ریکارڈ کا حصہ بنے۔ ذرائع نے تاہم یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ سابق صدر کو اسکینڈل میں ملوث کرنے کیلئے ریکارڈ میں ٹمپرنگ بھی کی جا سکتی ہے۔

منی لانڈرنگ کی تحقیقات کیلئے لازم ہے کہ مشکوک ٹرانزیکشن کی صورت میں اسٹیٹ بنک کا فنانشل مانیٹرنگ یونٹ خفیہ طریقے سے اکاؤنٹ کی چھان بین کرے لیکن ایف ایم یو بھی آصف زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کا الزام ثابت نہیں کر پایا۔

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ جے آئی ٹی کے سامنے گزشتہ پیشی کے دوران آصف علی زرداری کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری ہوئے تاہم ٹھوس شواہد نہ ہونے پر گرفتار نہیں کیا گیا۔ سابق صدر کے خلاف صرف ڈیڑھ کروڑ کا الزام سامنے آیا، جس کے خلاف وہ ٹھوس ثبوت جے آئی ٹی کو دے چکے جبکہ فالودہ بیچنے والے اور ریڑھی بانوں کے اکاؤنٹس میں بھاری رقوم کس نے منتقل کیں؟ یہ معمہ بھی حل ہونا باقی ہے۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔