مودی سرکار۔۔۔ کسان خوار

مودی سرکار۔۔۔ کسان خوار


تحریر: سید امجد حسین بخاری

ایک صحافی کیلئے خبر کی تلاش جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتی ہے۔ گلوبل ویلج کی اصطلاح وجود میں آنے سے قبل صحافیوں کو خبروں کی تلاش میں نگر نگر کی خاک چھاننا پڑتی تھی۔ مگر اب جہاں خبروں کا سیلاب رواں ہے ، وہیں صحافی کیلئے بہتر اور ایکسکلیوسیو خبر کی تلاش مشکل ترین ہو گئی ہے۔ صحافت کی تعلیم کے دوران جہاں خبروں کے حصول کا طریقہ کار اور خبروں کی تزین و آرائش سیکھی ، وہیں میڈیا کے حوالے سے کئی تھیوریز کا مطالعہ بھی کیا۔ سوشل سائنسز کی تھیوریز کسانوں اور صنعت کاروں کے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔ کیسے کسان اپنا تن من دھن ، خون اور پسینہ ایک فصل کی تیاری میں صرف کردیتا ہے لیکن جواب میں اسے چند ٹکوں کے سوا کچھ نصیب نہیں ہوتا ۔ جبکہ اسی فصل کو صنعت کار مختلف چیزوں کی تیاری میں استعمال کرکے امیر ترین ہوتا چلا جاتا ہے۔ایسا صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں صنعت کاروں کا یہی طریقہ کار رائج ہے۔ 

بھارت اقوام عالم کیلئے مختلف حوالوں سے ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ لیکن یہاں کا کسان جس قدر مجبور ، لاچار اور بے بس ہے ایسا دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے۔ گندم اور چاول اگانے والا کسان دو وقت کی روٹی کو ترستا ہے۔ سونا اگلتی زمینوں کے وارثوں کی بیٹیوں کے ہاتھ سونے کے کنگنوں کو ترستے ہیں۔ گندم کی سنہریوں بالیوں کے سائے میں پلتی بیٹیاں ہاتھ پیلے ہونے کے سپنے سجائے بالوں میں چاندی سجا لیتی ہیں۔ اپنی فضلوں کے لئے سارا سال محنت کرنے والا کسان سال بھر کچھ خواب بنتا ہے، کچھ سپنے سجاتا ہے، چند ارمان جگاتا ہے۔ فصل کے ایک ایک دانے پر ایک ناتمام خواہش پنہاں ہوتی ہے۔ لیکن انہی کسانوں کے ارمان ، خواب اور سپنے ہواؤں میں اڑھ جاتے ہیں۔ جب فصلوں کی کاشت کیلئے لیا جانے والا قرضہ ادا کرنے کی رقم بھی اسے نہیں ملتی۔الغرض بھارت کا کسان جس کسمپرسی اور مصا ئب کا شکار ہے کہ اس کی مثال جدید دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ بھارت میں ان مصائب اور مشکلات سے تنگ آکر تین لاکھ کسانوں نے خود کشی کرلی۔

مودی جی پاکستان کو بنجر کرنے کے سپنے دیکھ رہے ہیں مگر ان کے اپنی زرعی ریاستوں میں کسان خوراک کی کمی کی وجہ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ پڑوسیوں کو تباہ کرنے میں بھارت سرکار کا کوئی جواب نہیں لیکن اپنے بیٹوں کی پرورش کے بارے میں انہیں کچھ خبر نہیں۔ سپیس مشن اور ہتھیاروں کی دوڑ میں لالہ جی پوری دنیا کو مات دینا چاہتے ہیں۔ لیکن لالا اپنا کسانوں کو بس لارا ہی دے رہے ہیں۔دوسری جانب بھی کسان بھی اپنے اوپر ہونے والے مظالم مزید برداشت نہیں کریں گے۔ کسانوں نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف دلی چلو مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس مہم کے دوران ہندوستان کے مختلف حصوں سے کسان بھارتی پارلیمنٹ کے سامنے جمع ہوگئے۔ دہلی کے رام لیلا گراونڈ میں کسانوں کا ایک سمندر امنڈ آیا۔ہاتھوں میں خود کشی کرنے والوں کسانوں کی کھوپڑیاں ، ہڈیاں اور اپنے منہ چوہے تھامے یہ کسان اپنی زندگی کی بازی لڑ رہے ہیں۔ 

ان دنوں پارلیمنٹ ہاوس کے باہر جمع کسانوں کے صرف چند ہی مطالبات ہیں۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ وہ نسل در نسل قرضوں کے بوجھ طلب گئے ہیں، حکومت ان کے قرض کو معاف کرائیں گے۔کسانوں کا ماننا ہے کہ ان کے فصلیں مطلوبہ نتائج نہیں دے رہیں اس لئے سرکارفضلوں کی اضافی ادائیگی کرے۔ فصلوں کے نقصانات کے ازالے کیلئے کسانوں نے فصلوں کی انشورنس کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ 60سالوں سے زائد عمر کے کسانوں کو سرکار کی جانب سے پینشن بھی دی جائے ۔کسانوں کا دھرنا آخری اطلاعات تک جاری ہے ۔ لیکن بھارتی سرکار تاحال ان کے مطالبات کو ماننے پر راضی نہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں کسانوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ کیا کسان ایک بار پھر سرمایہ دار اور صنعتکار سیاستدانوں کے جال میں پھنس جائیں گے، یا ان کی دلی یاترہ کامیاب ہوگی۔ یہ تو آنے والے وقت ہی بتائے گا تاہم پڑوسیوں کو الزام دینے کی بجائے اپنے گھر پر بھی نظر رکھ لینی چاہیے۔