مالدیپ میں ایمرجنسی نافذ،چیف جسٹس سمیت 2 ججزگرفتار


مالے(24نیوز) مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین کی جانب سے پارلیمنٹ کی معطلی اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پولیس نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت 2 ججز کو حراست میں لے لیا۔
صدر عبداللہ یامین نے شدید سیاسی بحران کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا جس کے چند گھنٹے بعد ہی پولیس اور فوجی دستے سپریم کورٹ میں داخل ہوئے جہاں چیف جسٹس عبداللہ سعید اور ایک اور جج علی حمید کو حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کو تفتیش کے لئے حراست میں لیا گیا ہے تاہم پولیس کی جانب سے گرفتار ججز سے تفتیش اور ان پر عائد الزامات کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
مالدیپ حکومت نے سیکیورٹی فورسز کو سپریم کورٹ کی جانب سے صدر عبداللہ یامین کی گرفتاری یا مواخذے پر عمل نہ کرنے کی بھی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
خیال رہے کہ مالدیپ میں اس وقت سیاسی بحران نے جنم لیا جب سپریم کورٹ نے 2 فروری کو اپنے ایک فیصلے میں جلاوطن سابق صدر محمد نشید کا ٹرائل غیر آئینی قرار دے کر گرفتار 9 ارکان پارلیمنٹ کی رہائی کا حکم دیا تھا۔
حکومت نے عدالتی حکم پر عمل درآمد سے انکار کرتے ہوئے پارلیمان کو ہی معطل کر دیا تھا،دوسری جانب ملک بھر میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سیکیورٹی فورسز نے سابق صدر مامون عبدالقیوم کو بھی گرفتار کرلیا جن پر الزام ہے کہ وہ اپوزیشن کی حمایت میں سرگرم تھے۔
گرفتار مامون عبدالقیوم موجودہ صدر عبداللہ یامین کے سوتیلے بھائی ہیں، جن کی بیٹی کا کہنا ہے کہ الیکشن 2008 کے بعد جمہوریت پسندوں نے ان کے والد سے حکومت چھین لی تھی اور اب انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ مامون عبدالقیوم 1978 سے 2008 تک مالدیپ کے صدر رہے۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں