سینیٹ کے آدھے ارکان ریٹائرمنٹ کےلئے تیار


اسلام آباد(24نیوز) مارچ تک چاروں صوبائی اسمبلیوں اوروفاق میں موجودہ پارٹی پوزیشن برقرار رہی، سینٹ کے انتخابات کے بعد ن لیگ ایوان بالا میں واضع طور پر اکثریتی پارٹی بن جائے گی، الیکشن کے بعد سینیٹ میں متوقع پارٹی پوزیشن کیا ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق ما رچ میں سینیٹ کے آدھے ارکان اپنی مدت پوری کرکے ریٹائرہوجائیں گے جن کی جگہ نئے ارکان کا انتخاب کیا جائے گا۔ سینیٹ میں حالیہ پارٹی پوزیشن پرنظرڈالی جائے تو وہاں ن لیگ کے اس وقت 27 ارکان ہیں مارچ میں الیکشن کے بعد ن لیگی سینیٹرز کی تعداد 36 تک پہنچنے کا امکان ہے۔ تاہم بلوچستان کی نئی سیاسی صورت حال سے ن لیگ کی متوقع نشستوں میں 1 یا 2 کی کمی ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ پیپلزپارٹی مارچ الیکشن کے بعد بھی تعداد کے لحاظ سے سینیٹ میں دوسری بڑی پارٹی تو رہے گی لیکن اس کے سینیٹروں کی تعداد 26 سے کم ہو کر 16 ہونے کا امکان ہے۔ تحریک انصاف دوسری جماعت ہے جس کے ارکان کی تعداد مارچ الیکشن کے بعد سینیٹ میں بڑھنے کا امکان ہے۔ موجودہ سینٹ میں میں پی ٹی آئی کے 7 ارکان ہیں جو بڑھ کر12ہو سکتے ہیں۔موجودہ سیٹ اپ کے تحت ہی سینیٹ الیکشن کی صورت میں جے یو آئی ف کے سینیٹروں کی تعداد 5 سے کم ہو کر 4 اور اے این پی کے ارکان کی تعداد 6 سے کم ہو کر 2 رہ جائے گی۔

دوسری جانب ایم کیوایم کی جس کے سینیٹ میں اس وقت 8 ارکان ہیں۔متحدہ قومی موومنٹ تقسیم درتقسیم کے جس مرحلے سے گذررہی ہے اس سےامکان ہے کہ اس کے سینیٹرز کی تعداد بھی کم ہوسکتی ہے۔ جبکہ جماعت اسلامی کا اس وقت سینیٹ میں ایک رکن ہے۔ مارچ الیکشن کے بعد اس کی نمائندگی ڈبل ہوسکتی ہے۔ جبکہ دوسری پارٹیوں سے سیٹ ایڈجسٹ منٹ نہ ہونے کی صورت میں مسلم لیگ ق، فنکشنل لیگ اور بی این پی عوامی کا سینیٹ سے صفایا بھی ہو سکتا ہے۔