سینیٹ قائمہ کمیٹی،انسانی سمگلنگ کی روک تھام سے متعلق وزارت داخلہ سے بریفنگ

سینیٹ قائمہ کمیٹی،انسانی سمگلنگ کی روک تھام سے متعلق وزارت داخلہ سے بریفنگ


اسلام آباد(24 نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے انسانی سمگلنگ کی روک تھام سے متعلق وزارت داخلہ سے بریفنگ لی جبکہ لیبیا میں کشتی ڈوبنے کے معاملے پرپاکستانی سفیرسے تفصیلات طلب کرلیں۔ وراثت میں حصہ دینے کے معاملے پرخواجہ سراوں کے نمائندوں اورانسانی حقوق کمیٹی کےچئرمین کو بھی بلانے کافیصلہ کیاگیا۔

 تفصیلات کے مطابق چئیرمین رحمان ملک کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔ کمیٹی نے سوات دہشتگردی کی مذمت اور پاک فوج کے جوانوں کیلئے دعا کی۔ رحمان ملک نے کہا کہ لیبیا میں کشتی ڈوبنے کے واقعہ میں 11 پاکستانیوں کی ہلاکت پربھی گہرے دکھ کا اظہارکرتے ہیں، کمیٹی اس واقعہ کا سخت نوٹس لیتی ہے، لیبیا میں تعینات پاکستانی سفیرواقعہ سے متعلق تفصیلات پیش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کی اسطرح کی ہلاکت پر چپ نہیں رہ سکتے۔

غیرقانونی امیگریشن کو روکنا وزارت داخلہ کا کام ہے، وزارت داخلہ اس حوالے سے کیا اقدامات اٹھا رہی ہے؟ اب تک کتنے انسانی اسمگلرز کیخلاف کاروائی کرکے سزا دی گئی ہے، کمیٹی نے سفارش کی کہ وزارت داخلہ انسانی اسمگلرز کیخلاف ملک بھر میں سخت کاروائی کرے، کمیٹی کا آئندہ اجلاس میں خواجہ سراؤں کے نمائندوں اور انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین کو بلانے کا فیصلہ کیا، رحمان ملک نے کہا کہ اسلام آباد میں معیاری خوراک کی فراہمی سے متعلق اتھارٹی بنانے کا بل فوری طور پر پارلیمینٹ سے منظور کرایا جائے، اگربل سینٹ کی مدت سے پہلے منظور نہ ہو تو آرڈینینس جاری کیا جائے۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ وفاقی اورصوبائی حکومت نے راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے کیا اقدامات کیے، بتایا جائے کہ راو انوار کو ابتک کیوں گرفتار نہیں کیا جاسکا،

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ معاملے کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں زیر غور لائیں گے، آپ اسے الگ ایجنڈے کے طور پر بھی فائل کردیں۔