کشتی اور باڈی بلڈنگ کےسابق اولمپئن افتخار احمد موچیوں کا کام کرنے پہ مجبور

کشتی اور باڈی بلڈنگ کےسابق اولمپئن افتخار احمد موچیوں کا کام کرنے پہ مجبور


ایبٹ آباد (24نیوز) کشتی اور باڈی بلڈنگ کے کھیل سے وابستہ سابق اولمپئن افتخار احمد نے حکومتی عدم توجی کی بدولت اپنے کھیل کو چھوڑ کر محنت مزدوری شروع کر دی۔ ایبٹ آباد کے مین بازار میں موچی کا کام کرنے والے افتخار احمد نے ملکی و بین القوامی مقابلوں میں ملک و قوم کا نام روشن کیا ۔

 موچی کا کام کرنا والا محنت کش افتخار احمد جو 1985سے 1996 تک کشتی سمیت باڈی بلڈنگ کے کھیل سے وابستہ رہا ۔افتخار احمد نے 1988 میں سرحد اولمپکس میں پہلی بار کشی کے مقابلوں میں گولڈ میڈل لیا۔1989میں نیشنل چمپئن شپ میں کشتی کے مقابلوں میں دوسری پوزیشن لی۔1989میں اسلام آباد میں ہونے والی سیف گیم میں کشتی کے مقابلوں میں دوسری پوزیشن لی۔

افتخار احمد اپنے طور پر تو مختلف مقابلوں میں حصہ لیتا رہا ہے مگر حکومتی طور پر اس کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا گیا۔ افتخار احمد نے کھیلوں سمیت دیگر سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں روزگار کی تلاش کی مگر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔جب کوئی مناسب روزگار میسر نہ ہوا تو انہوں نے موچی کا کام شروع کر دیا۔

افتخار احمد کا کہنا ہے کہ اپنے پانچ بچوں کا پیٹ پالنے کے لیےموچی کے کام پر توجہ دی۔ افتخار احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا  کہ اس کے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے حکومت تعاون کرے۔