ہندو انتہا پسند بالی وُڈ کو اُجاڑنے پر بضد، کنگنا رناوت کو نشانے پر رکھ لیا

ہندو انتہا پسند بالی وُڈ کو اُجاڑنے پر بضد، کنگنا رناوت کو نشانے پر رکھ لیا


ممبئی (24 نیوز) اداکارہ دپیکا پڈوکون کی فلم ’ پدماوت ‘ کے بعد بالی وُڈ اداکارہ کنگنا رناوت کی فلم ’ مانی کارنیکا: کوئین آف جھانسی ‘ بھی انتہا پسندوں کے نشانے پر آ گئی ہے۔

فلم ’ پدماوت ‘ کا تنازع کئی ماہ کی ہنگامہ آرائیوں کے بعد اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ عدالتی فیصلوں کے دباؤ کے نتیجہ میں کرنی سینا احتجاج کا سلسلہ واپس لینے پر مجبور ہو گئی ہے۔ لیکن اس بار انتہا پسندوں نے کنگنا رناوت کی فلم کو نشانے پر لے لیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سلمان خان نے ٹوٹے ہوئے دل پھر سے جوڑ دیئے

بھارتی میڈیا کے مطابق راجستھان کی حکومت سے فلم ’مانی کارنیکا: کوئین آف جھانسی‘ کی نمائش روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

برہمن مہاسبھا نے کنگنا رناوت کی فلم ’مانی کارنیکا‘ پر تاریخی حقائق مسخ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم کی کہانی میں ’رانی لکشمی بائی‘ کو انگریز افسر کی محبوبہ دکھایا گیا ہے۔

انتہا پسندوں نے فلمسازوں کو 3 دن میں اس معاملہ پر وضاحت دینے کی مہلت دی ہے اور ریاستی حکومت کو فی الفور فلم کی شوٹنگ روکنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وضاحت نہ دینے یا شوٹنگ نہ روکنے تک کسی قسم کے نقصان کی ذمہ دار ریاستی حکومت ہی ہو گی۔

پڑھنا نہ بھولئے: کرینہ کپور اپنی دلکشی کی واپسی کیلئے پرعزم، وزن گھٹانا شروع کر دیا

یاد رہے کہ فلم کی شوٹنگ گزشتہ سال سے جاری ہے جس میں کنگنا رناوت ’رانی لکشمی بائی‘ کے روپ میں نظر آئیں گی۔ یہ بھی خیال رہے کہ فلم رواں سال اپریل میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔