پاکستان میں اپنا ثقافتی ورثہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی: بھارتی کبڈی ٹیم

پاکستان میں اپنا ثقافتی ورثہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی: بھارتی کبڈی ٹیم


فیصل آباد(24نیوز) بھارتی کبڈی ٹیم سردار بھگت سنگھ سندھو کی تاریخی حویلی کا دورہ کرنے چک نمبر 105 گ۔ب بنگے پہنچ گئی۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز تین ملکی کبڈی سیریز میں شرکت کے لئے بھارت کی ٹیم لاہور پہنچی ،  پاکستان میں کبڈی کا انٹرنیشنل میلہ فیصل آباد میں شروع ہو چکا ہے، بھارتی کبڈی ٹیم سردار بھگت سنگھ سندھو کی تاریخی حویلی کا دورہ کرنے چک نمبر 105 گ۔ب بنگے پہنچ گئی، کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ حویلی پہنچ کر بے حد خوشی محسوس کررہے ہیں۔

بھارتی کھلاڑیوں کا مزید کہنا تھا کہ سکھ مذہب میں سردار بھگت سنگھ سندھو کا اعلیٰ مقام ہے، پاکستان میں اپنا ثقافتی ورثہ دیکھا بے حد خوشی ہوئی،حویلی مالک ثاقب ورک نےانڈین کھلاڑیوں کی دیسی کھانوں سے تواضع کی جائے گی۔

واضح رہے کہ تین ملکی کبڈی سیریز میں شرکت کے لئے چاروں صوبوں سمیت آرمی، پی اے ایف، واپڈا، ریلویز، پولیس، ایچ ای سی، پی او ایف واہ، بھارت اور ایران کی ٹیمیں شامل ہیں۔

سردار بھگت سنگھ سندھو کون تھا؟

برصغیر کی جدوجہد آزادی کا ہیرو اور بھگت سنگھ سوشلسٹ انقلاب کا حامی تھا،طبقات سے پاک برابری کی سطح پر قائم ہندوستانی معاشرہ چاہتا تھا،پنجاب کے ضلع لائل پور کے موضع بنگہ میں پیدا ہوئے،  1921ء میں سکول چھوڑا، اور نیشنل کالج میں تعلیم شروع کی، 1927ء میں لاہور میں دسہرہ بم کیس کے سلسلے میں گرفتار ہوئے اور  ان کوشاہی قلعہ لاہور میں رکھا گیا، ضمانت پر رہائی کے بعد نوجوان بھارت سبھا بنائی اور پھر انقلاب پسندوں میں شامل ہوگئے۔ دہلی میں عین اس وقت جب مرکزی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا انھوں نے اور بے کے دت نے اسمبلی ہال میں دھماکا پیدا کرنے والا بم پھینکا، دونوں گرفتار کرلیے گئےاور عدالت نے عمر قید کی سزا دی۔

لاہور کے سینٹرل جیل کے کمرۂ عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا، بھگت سنگھ اور دت اس سے قبل اسمبلی بم کیس میں سزا پا چکے تھے، مقدمہ تین سال تک چلتا رہا، حکومت کی طرف سے خان صاحب قلندر علی خان اور ملزمان کی طرف سے لالہ امرد اس سینئر وکیل تھے،بھگت سنگھ اور سکھ دیو کو سزائے موت کا حکم دیا گیا اور 23 مارچ 1931ء کو ان کو پھانسی دے دی گئی،  فیروز پور کے قریب دریائے ستلج کے کنارے ان کی لاشوں کو جلا دیا گیا۔