خیال سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خودکشی تک(دوسری قسط)

خیال سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خودکشی تک(دوسری قسط)


ذہنی بے چینی و چڑاچڑا پن (Depression)

جب آپ کو

اپنے پسندیدہ کام میں بھی

مزہ نہ آئے

یوں لگے کہ آپ کا جسم آپ کا

اپنا بوجھ سہارنے سے قاصر ہے

اپنا آپ بے کار نظر آئے

فیصلہ سازی کی قوت نا رہے

اور

آخر میں زندگی (Life) کے

خاتمے( خودکشی ) کا خیا ل آئے

تو جان لیجیے کہ آپ نے

ڈپریشن سے دوستی لگا لی ہے۔اور اپنی زندگی

کی رونقیں آپ کو بے رونق لگنے کے کے ساتھ ساتھ

اپنےآپ پر ترس آئے اور

دوسرئے کو قصور وار کہنے میں مزہ آئے۔

دوسرے کو گالی /برابھلا

کہہ کر(دل میں یہ ظاہرمیں ) سکون آئے

باتوں کو الجھا کر اور تضاد( Conflict )، دفتری

زندگی میں Email،Emailکھیلنے کا مزہ آئے

تنہائی میں بھی

بے چینی برقرار رہے ۔

تو زندگی میں بے قراری بڑھے گئی ۔

میرے ایک دوست زیادہ

بلاوجہ مصروف ہو کر اس کا حل نکالنے میں اور مصروف ہو جاتے ہیں ۔

حالانکہ اس کے حل کی طرف نا بڑھا جاے تو یہ آپ کو دل کے تکلیف دہ مرض کے ساتھ دوسری بیماریوں کی طرف

پیش قدمی کروا دیتے ہے۔

اس لیےان سے

چھٹکارا پان چاہتے ہیں تو اس کو ابتدا سے

پکڑیں نا کہ آخر سے۔۔۔پھر بھی مسلئہ حل نا ہو تو۔۔۔تلاش کیجیے درددل والا اک چارہ

گر۔۔۔

نوٹ:پہلی قسط پڑھنے کیلئے کلک کیجئے۔۔

اک چارہ گر(نفسیات دان) ، تربیت کار(ٹریننر)