ایون فیلڈ ریفرنس کیس :فیصلے کا وقت بار بار تبدیل , اب ساڑھے تین بجے سنایا جائے گا

ایون فیلڈ ریفرنس کیس :فیصلے کا وقت بار بار تبدیل , اب ساڑھے تین بجے سنایا جائے گا


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں مریم نواز،حسن اور حسین نواز اور داماد کیپٹن (ر)محمد صفدر کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کیس کا فیصلہ موخر کرنے یا نہ کر نے کا فیصلہ سنادیا گیا ،نوازشریف نے فیصلہ موخر کرنے کی اپیل کی تھی جس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فیصلہ محفوظ کیا اور اب اسے ایک گھنٹے بعد سنا دیا گیا ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز کی درخواست مسترد کردی گئی ہے،کیس کا فیصلہ آج ہی نماز جمعہ کے بعد سنایا جائے گا-فیصلہ آنے میں ابھی چند منٹ باقی ہیں،رجسٹرار کا کہنا ہے کہ فیصلہ تین بجے سنایا جائے گا۔فیصلے کا وقت بار بار تبدیل کیا گیا،چوتھی بار نیا وقت دیا گیا ہے ، فیصلہ اب ساڑھے تین بجے سنایا جائے گا،کمرہ عدالت کے گیٹ بند کردئیے گئے ہیں جبکہ فیصلہ سننے کیلئے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ 
ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصلہ نواز شریف اور مریم نواز کی حد تک ہی سنایا جائے گا۔احتساب عدالت کے باہر سکیورٹی سخت کردی گئی ہے-

                                                                                                                                          ایون فیلڈ ریفرنس فیصلہ موخر کرنے یا نہ کر نے کا فیصلہ کچھ دیر بعد سنایا جائیگا

سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں مریم نواز،حسن اور حسین نواز اور داماد کیپٹن (ر)محمد صفدر کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کیس کا فیصلہ موخر کرنے یا نہ کر نے کا کچھ دیر بعد سنایا جائیگا ،نوازشریف نے فیصلہ موخر کرنے کی اپیل کی تھی جس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے اوریہ گیارہ بجے سنایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق فیصلہ بند لفافے میں موجود ہے،اس سے قبل کیس کی سماعت صرف پندرہ منٹ چلی ،ملزمان اس وقت عدالت میں موجود نہیں ہیں جبکہ ان کے وکلا حاضر ہیں۔
گزشتہ روزسابق وزیر اعظم نواز شریف کا لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انتخابات 2018 میں دھاندلی کا ارتقاب ہوچکا ہے، الیکشن میں من پسند فیصلے سے ملک کو نقصان ہوگا، گزشتہ سال جو کچھ ہوتا رہا ہے وہ سب نے دیکھا ہے، بغیر جواز کوئی بات کرنا میری فطرت میں نہیں، آج بھی اسی جگہ کھڑا ہوں جہاں پہلے روز کھڑا تھا، صاف اور حقائق پر بات کرتا ہوں اور ہونی بھی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی کی کئی مثالیں سامنے آ رہی ہیں، من پسند نتائج کے حصول سے بہتری نہیں آئے گی، ووٹ کو عزت دو کی بات پر آج بھی قائم ہوں۔
یاد رہے احتساب عدالت نے نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدرکے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ کرلیا،احتساب عدالت کا کہنا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جولائی کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت نے تقریباً ساڑھے 9 ماہ کیس کی سماعت کی، نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کو ایون فیلڈ ریفرنس میں اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ا یون فیلڈ ریفرنس فیصلہ،نوازشریف رکاوٹ بن گئے
خیال رہے کہ احتساب عدالت نے تقریباً ساڑھے 9 ماہ کیس کی سماعت کی، ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف سمیت ملزمان سے 127سوالات پوچھے گئے، ملزمان کی طرف سے کوئی گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، لندن سے 2 گواہوں کے بیانات ویڈیو لنک پر ریکارڈ کیے گئے جبکہ نیب کے گواہ رابرٹ ریڈلے اور راجا اختر کا ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کیا گیا، ایون فیلڈ ریفرنس کی 107 سماعتیں ہوئیں، نواز شریف اور مریم نواز 78 مرتبہ عدالت میں پیش ہوئے۔
واضح رہے کہ 29 جون کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایڈووکیٹ امجد پرویز کو ایون فیلڈ ریفرنس میں 2 جولائی کو ہر حالت میں حتمی دلائل ختم کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم گزشتہ روز دلائل مکمل نہ ہونے پر ریفرنس کی سماعت آج تک کے لیے ملتوی کردی گئی تھی،فیصلہ کے وقت ملزموں کا کمرہ عدالت میں ہونا ضروری ہوتا ہے اب ملزم اس دن پیش ہوتے ہیں یا نہیں اس بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔

ایون فیلڈ ریفرنس کب کیا ہوا؟


قومی احتساب بیورو (نیب) نے سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں سابق وزیراعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کے خلاف 8 ستمبر 2017 کو عبوری ریفرنس دائر کیا جس میں انہیں ملزم نامزد کیا،خریفرنس پر 14 ستمبر 2017 کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے پہلی سماعت کی اور لگ بھگ ساڑھے 9 ماہ بعد آج اس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔
احتساب عدالت نے عدم حاضری کی بنا پر حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے انہیں ریفرنس سے الگ کیا،ایک موقع پر مسلسل غیر حاضری پر عدالت نے 26 اکتوبر کو نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جس کے ایک ماہ بعد یعنی 26 ستمبر کو نواز شریف پہلی بار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے جب کہ ان کی صاحبزادی مریم نواز 9 اکتوبر کو پہلی مرتبہ عدالت میں پیش ہوئیں۔

 یہ خبر بھی پڑھیں:  ایون فیلڈ ریفرنس:صفدر اور مریم کے وکیل کا کوین بنچ کی شہادت قبول کرنے سے انکار

احتساب عدالت نے نواز شریف کے داماد کے ناقابل ضمانت وارنٹ بھی گرفتاری جاری کیے اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایئرپورٹ سے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا،19 اکتوبر 2017 کو مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی، نواز شریف کی غیر موجودگی کے سبب ان کے نمائندے ظافر خان کے ذریعے فرد جرم عائد کی گئی۔
3 نومبر کو نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر ایک ساتھ عدالت میں پیش ہوئے اور 8 نومبر کو پیشی کے موقع پر نوازشریف پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی،مزید شواہد سامنے آنے پر نیب نے 22 جنوری 2018 کو ضمنی ریفرنس دائر کیا۔
ایون فیلڈ ریفرنس میں مجموعی طور پر 18 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے جن میں پاناما اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیائ بھی شامل تھے۔