ایون فیلڈ ریفرنس:نواز شریف کو10،مریم نواز کو 7سال قید

ایون فیلڈ ریفرنس:نواز شریف کو10،مریم نواز کو 7سال قید


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں مریم نواز،حسن اور حسین نواز اور داماد کیپٹن (ر)محمد صفدر کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کیس کا فیصلہ سنادیا گیا ہے،نوازشریف نے فیصلہ موخر کرنے کی اپیل کی تھی لیکن احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے نو از شریف کی قسمت کا فیصلہ سنادیا ہے،یہ فیصلہ ساڑھے نو ماہ بعد 109سماعتوں کے بعد سنایا گیا ہے، نواز شریف کو دس سال،مریم نواز7سال ،کیپٹن (ر)محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنادی گئی ہے، نواز شریف کو اسی لاکھ پاﺅنڈ جرمانہ ،جائیداد ضبط کرلی گئی،مریم نواز کو 32کروڑ 40لاکھ روپے جرمانہ بھی ہوا،مریم نواز الیکشن بھی نہیں لڑ سکیں گی۔

یہ بھی لازمی پڑھیں: بڑے فیصلے سے پہلے’’بڑے انتظامات‘‘ کر لیے گئے

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فیصلہ سنانے سے پہلے میڈیا کے نمائندوں کو کمرہ عدالت سے نکال دیا،عملے نے میڈیا نمائندوں کے نکلتے ہی دروازہ بند کردیا-

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس کا فیصلہ ایون فیلڈ فلیٹس میں ہی سنا،مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے آج چار بجے ماڈل ٹاﺅن لاہور میں پریس کانفرنس کرینگے۔
یاد رہے سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں مریم نواز،حسن اور حسین نواز اور داماد کیپٹن (ر)محمد صفدر کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کیس کا فیصلہ موخر کرنے یا نہ کر نے کا فیصلہ سنادیا گیا ،نوازشریف نے فیصلہ موخر کرنے کی اپیل کی تھی جس پر فیصلہ ساڑھے بارہ بجے سنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  ایون فیلڈ ریفرنس:نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ سنادیا گیا
خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں سابق وزیراعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کے خلاف 8 ستمبر 2017 کو عبوری ریفرنس دائر کیا جس میں انہیں ملزم نامزد کیا،خریفرنس پر 14 ستمبر 2017 کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے پہلی سماعت کی۔
احتساب عدالت نے عدم حاضری کی بنا پر حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے انہیں ریفرنس سے الگ کیا،ایک موقع پر مسلسل غیر حاضری پر عدالت نے 26 اکتوبر کو نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جس کے ایک ماہ بعد یعنی 26 ستمبر کو نواز شریف پہلی بار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے جب کہ ان کی صاحبزادی مریم نواز 9 اکتوبر کو پہلی مرتبہ عدالت میں پیش ہوئیں۔
احتساب عدالت نے نواز شریف کے داماد کے ناقابل ضمانت وارنٹ بھی گرفتاری جاری کیے اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایئرپورٹ سے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا،19 اکتوبر 2017 کو مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی، نواز شریف کی غیر موجودگی کے سبب ان کے نمائندے ظافر خان کے ذریعے فرد جرم عائد کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   ا یون فیلڈ ریفرنس فیصلہ،نوازشریف رکاوٹ بن گئے 

3 نومبر کو نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر ایک ساتھ عدالت میں پیش ہوئے اور 8 نومبر کو پیشی کے موقع پر نوازشریف پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی،مزید شواہد سامنے آنے پر نیب نے 22 جنوری 2018 کو ضمنی ریفرنس دائر کیا۔
ایون فیلڈ ریفرنس میں مجموعی طور پر 18 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے جن میں پاناما اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیا بھی شامل تھے۔