نواز شریف چیف جسٹس کے بلانے پر بھی عدالت نہ آئے


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیر اعظم نواز شریف اصغر خان کیس میں چیف جسٹس کے بلانے پر بھی عدالت میں نہ آئے،اطلاع دینے کیلئے جانیوالے اٹارنی جنرل بھی واپس نہ آئے۔
سپریم کورٹ نے 1990 کی انتخابی مہم کے دوران پیسے وصول کرنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف ، سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی اور عابدہ حسین سمیت21 سویلین کو نوٹس جاری کیے تھے۔
دوسری جانب عدالت عظمیٰ کی جانب سے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی ) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی سمیت کیس سے متعلقہ آرمی افسران، ڈی جی نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کو بھی نوٹس جاری کیے گئے تھے۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آج اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی،سماعت کے دوران متعدد سیاسی رہنماو¿ں کے وکلاءاور سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی عدالت میں پیش ہوئے،سماعت کے آغاز پر جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ میاں نواز شریف کہاں ہیں؟انہیں نوٹس دیا تھا وہ کیوں نہیں آئے؟ ٹی وی چینلز پر ٹکرز بھی چلے جبکہ آج اخبارات کی لیڈ سٹوری بھی یہی ہے،ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر نواز شریف اسلام آباد میں ہیں تو وہ ایک گھنٹے میں عدالت میں پیش ہوں، یہ عدالت کا حکم ہے ہر کسی کو آنا پڑےگا۔

 یہ خبر بھی پڑھیں: ریحام کے بارے عمران جانے یا اس کے لوگ،مجھے کیا پتا:نواز شریف
اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ نواز شریف اس وقت احتساب عدالت میں ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نواز شریف کے وکیل ہیں، تو ان کو بھجوا دیں،سماعت میں دس بجے تک وقفہ کیا گیا ۔
دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے میاں نوازشریف کہاں ہیں؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا میاں نوازشریف آگئے ہیں،ہم نے اٹارنی جنرل کو کہا تھا اطلاع دینے کے لئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل ابھی واپس نہیں آئے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر نوازشریف خود نہیں آنا چاہتے تو وکیل بھیج دیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو اطلاع دے دی ہے،،اصغرخان کیس کی سماعت بارہ جون تک ملتوی کردی گئی۔
اس سے قبل سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی صاحب یہاں موجود ہیں، ان سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے پیسے لیے تھے؟جس پر جاوید ہاشمی نے جواب دیا کہ انہوں نے پیسے نہیں لیے۔ 

یہ خبر بھی پڑھیں:  حلقہ بندیوں پر اعتراضات، الیکشن کمیشن نے بڑا فیصلہ سنا دیا
جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ میں نے 5 سال نیب کی عدالت میں کیس بھگت کر اس الزام کو کلیئر کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ بہت اچھی بات ہے،کرپشن کے خلاف کیسز میں آپ جیسے سیاستدانوں کو لیڈ کرنا چاہیے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت نے آرمی افسران کا معاملہ آرمی کو ہی سونپ دیا ہے، وہ بھی اس معاملے کو اپنے قانون کے مطابق دیکھیں جبکہ اس کیس میں سویلینز کا معاملہ ایف آئی اے دیکھ رہی ہے۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ اعتزاز احسن نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ کے نام بھی نوٹس جاری ہوا، مگر ان کا اس کیس میں نام نہیں ہے،جس پر عدالت عظمیٰ نے یہ کہہ کر خورشید شاہ کو جاری نوٹس واپس لے لیا کہ یہ نوٹس غلطی سے جاری ہوا۔

ویڈیو دیکھیں:

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں