پنجاب، بلوچستان کے نگران وزرائے اعلیٰ کا معاملہ الیکشن کمیشن کے سپرد


کوئٹہ، لاہور( 24نیوز ) پنجاب اور بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ کا مسئلہ حل نہ ہوسکا ، جس کے بعد اب نگران وزیر اعلیٰ کی تقرری الیکشن کمیشن کرے گا۔

پنجاب میں نگران وزیراعلیٰ کا معاملہ حل کرنے کے لیے آج پارلیمانی کمیٹی پنجاب اسمبلی میں سر جوڑے گی، (ن) لیگ کی پہلی ترجیح ایڈ مرل ریٹائڑڈ ذکاءاللہ جبکہ تحریک انصاف کی پہلی ترجیحی ڈاکٹر حسن عسکری ہیں۔

پارلیمانی کمیٹی تین دن کے اندر نگران وزیر اعلیٰ کے نام کو فائنل کرنے کی پابند ہے

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں نگران وزیر اعلیٰ کا معاملہ حل کرنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج سپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں  پنجاب اسمبلی میں ہوگا۔ اجلاس میں نگران وزیراعلیٰ کے ناموں پر غور کیا جائے گا۔ پارلیمانی کمیٹی تین دن کے اندر نگران وزیر اعلیٰ کے نام کو فائنل کرنے کی پابند ہے۔

(ن) لیگ کی جانب سے ایڈمرل ریٹائرڈ ذکاءاللہ اور جسٹس ریٹائرڈ سائر علی جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے ڈاکٹر حسن عسکری اور ایاز میر کے نام دیئے گئے ہیں۔ (ن) لیگ کی پہلی ترجیح ایڈ مرل ریٹائڑڈ ذکاءاللہ جبکہ تحریک انصاف کی پہلی ترجیحی ڈاکٹر حسن عسکری ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی میں اگر نگران وزیراعلیٰ کا معاملہ حل نہ ہوسکا تو الیکشن کمیشن نگران وزیر اعلیٰ کے نام کو فائنل کرے گا۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے رانا ثناء اللہ، خواجہ عمران نذیر اور ملک احمد خان جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے میاں محمود الرشید، شعیب صدیقی اور سبطین خان نمائندگی کریں گے۔

 یہ خبر بھی پڑھیں: نواز شریف چیف جسٹس کے بلانے پر بھی عدالت نہ آئے

حکومتی پارٹی اور اپوزیشن کا ڈیڈ لاک ٹوٹنے کا امکان ہے،توقع کی جارہی ہے کہ دونوں طرف سے معاملہ طے کرلیا جائے گا،یہ بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اپوزیشن کے بجائے حکومتی نام قبول کیا جاسکتا ہے،اس حوالے سے ایڈ مرل ریٹائڑڈ ذکاءاللہ کا نام فیورٹ ہے۔

واضح رہے کہ پارلیمانی کمیٹی آج نگران وزیر اعلیٰ کا فیصلہ نہ کرسکی تو معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا۔

دوسری جانب بلوچستان میں بھی نگران وزیراعلیٰ کی تقرری کا مسئلہ حل نہ ہوسکا، پنجاب اور بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔آج بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر میں اجلاس ہونا تھا لیکن حکومت کی جانب سے تینوں ممبران کمیٹی میں پیش نہیں ہوئے جس پر اجلاس کچھ دیر بعد ختم کردیا گیا۔

اپوزیشن کی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ  زہری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ حکومت کی جانب سے کوئی بھی پارلیمانی رکن نہیں آیا، انھوں نے اپنے چار نام اسپیکر کو بھیجنے کا علان کرتے ہوئے کہا کہ بدقمسی کا مقام ہے کہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں جارہا ہے لیکن اس کی آئین میں گنجائش ہے۔

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ہم بالکل آئین کے مطابق چلے ہیں، لیکن حکومت نے خلاف ورزی کی ہے جو کچھ حکومت کی طرف سے کیا جارہا ہے وہ ٹھیک نہیں۔