افتخار چودھری بدسلوکی کیس: عدالت کا پولیس، انتظامیہ کیخلاف سزاؤں کا فیصلہ برقرار

افتخار چودھری بدسلوکی کیس: عدالت کا پولیس، انتظامیہ کیخلاف سزاؤں کا فیصلہ برقرار


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے بدسلوکی کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پولیس اور سابقہ انتظامیہ کی انٹراکورٹ اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سزاؤں کا فیصلہ برقرار رکھا ہے،  عدالتی احکامات کے بعد ملزمان کو کمرہ عدالت سے حراست میں لےلیاگیا۔

سپریم کورٹ نے افتخار چودھری بدسلوکی کیس کی نظرثانی اپیل کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق آئی جی اسلام آباداوردیگر 7پولیس افسران کی اپیلیں مستردکردیں، عدالت نے ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے ملزمان کو حراست میں لےلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا انتخابات کے امیدواروں کو بیان حلفی جمع کرانے کاحکم

عدالت نے سابق آئی اسلام آبادافتخار احمد کو 15روز جیل بھیجنے کا حکم دے دیا،سابق چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز ،سابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی کے خلاف سزاکاحکم برقرار رکھا ہے،سابق ایس ایس پی اسلام آباد کیپٹن ظفر، پولیس اہلکاروں سفیر عباسی ،سلیم صفدر ،محمد سراج ،میاں اشرف کو ایک ماہ کی سزا دے دی ہے،موجودہ ڈی ایس پی رخسار مہدی ،ایس ایس پی موٹروے جمیل ہاشمی کو بھی ایک ماہ کی سزا ملی ہے،عدالتی فیصلے کے بعد پولیس نے تمام ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے آج افتخار چوہدری بدسلوکی کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سنایا، یاد رہے 2007میں سابق چیف جسٹس افتخارچودھری کوگھرسے عدالت آ تے وقت روکاگیا تھا ۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔