چیئرمین سینیٹ کا انتخاب حکومت،اپوزیشن دونوں کیلئے امتحان بن گیا


اسلام آباد(24نیوز)خدا خدا کرکے سینیٹ انتخابات تو ہوگئے لیکن یہ الیکشن بھی عام انتخابات کی طرح ”دھاندلی“اور ہارس ٹریڈنگ کے شور میں دھندلا سا گیا ہے،حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں کی طرف سے ممبران اسمبلی کے خریدے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں،یہ بات تو یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ پیسہ تو پانی کی طرح بہایا گیا ہے جس کا مختلف حوالوں سے ثبوت بھی موجود ہے،پنجاب میں یہ الزام تحریک انصاف پر ہے تو خیبر پی کے میں مسلم لیگ ن اس زد میں آئی ہے اسی طرح سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا کریکٹر ڈھیلا نظر آتا ہے ،اس تمام کے باوجود کوئی بھی ماننے کو تیار نہیں ہے،اب چونکہ مرحلہ چیئرمین سینیٹ کا ہے تو اس میں بھی ایک واضح جھول نظر آتا ہے۔

ایم کیوایم کو تو سینیٹ الیکشن نے تقسیم کرکے رکھ دیا ہے اب یہ اس پوزیشن میں نہیں رہی کہ اپنی موجودہ ہیئت کو بچا سکے، دھڑے بندی اوراختیارات کی جنگ کانتیجہ سینیٹ الیکشن میں سامنے آگیا، بھائیوں کی لڑائی میں باجیاں پس گئی ہیں ، دونوں دھڑوں نے خواتین ارکان اسمبلی کو سینیٹ الیکشن میں شکست کا ذمہ دار قرار دے دیا،بھائیوں کی طرف سے ووٹ بیچنے کے الزام کو ایم پی اے شازیہ فاروق برداشت نہ کرسکیں،انہوں نے تو اسے دل پر لے لیا .

یہ بھی پڑھیے۔۔۔۔۔ایم کیو ایم دھڑوں نے سینیٹ الیکشن میں شکست کا بوجھ خواتین پہ ڈال دیا
ذرائع کے مطابق رات کو سوتے ہوئے انہوں نے نیند کی گولیوں کی زیادہ مقدار کھالی اور زندگی کی خاتمے کی کوشش بھی کرڈالی ،قسمت اچھی تھی کہ گھروالوں کو بروقت پتہ چل گیا اور ہسپتال پہنچا دیا۔ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں اس مرتبہ جماعت مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ15 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور ان آزاد امیدواروں کی مسلم لیگ ن میں باقاعدہ شمولیت کے بعد وہ سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت بن سکتی ہے.

یہ بھی پڑھیے۔۔۔۔۔چیئرمین سینیٹ کیلئے ن لیگ کا پیپلزپارٹی اورپی ٹی آئی سے مذاکرات کا فیصلہ
مسلم لیگ نواز کے پہلے سے 18 اراکین موجود ہیں اور نئے اراکین کی شمولیت کے بعد سینیٹ میں مسلم لیگ نواز کی مجموعی تعداد 33ہو گئی ہے(آزاد ارکان کو اگر ن لیگ کی شناخت ملی تو)ان انتخابات سے قبل سینٹ کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹ دوسری نمبر پر چلی گئی ہے تاہم وہ اعدادوشمار کے برعکس کہیں زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، اس کے پرانے اراکین کی تعداد آٹھ تھی اور اب 12 نئے امیدوار کی جیت کے بعد سینیٹ میں ان کی مجموعی تعداد 20 ہو گئی ہے. پاکستان تحریک انصاف کی سینیٹ میں مجموعی نشستیں 12 ہو گئی ہیں جبکہ ان انتخابات میں ایم کیو ایم صرف ایک نشست لینے میں کامیاب ہوئی ہے،جے یو آئی ( ف)اور جماعت اسلامی نے ایک نشست اپنے نام کی ہے،فاٹا اور بلوچستان کے آزاد سینیٹرز اس وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کیلئے بہت اہمیت اختیار کرچکے ہیں،یہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے-----چودھری سرور نے برطانوی شہریت چھوڑنے کا ثبوت دیدیا

چیئرمین سینیٹ کا انتخاب حکومت اور اپوزیشن دونوں کیلئے امتحان ہے پیپلزپارٹی اپنا چیئرمین لانا چاہتی اور لانا بھی ن لیگ کی حمایت کے بغیر ۔جس کا پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری برملا اظہار بھی کرچکے ہیں اس کے باوجود مسلم لیگ ن نے پیپلزپارٹی سے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ رضا ربانی کومتفقہ چیئرمین سینیٹ بنا دیا جائے جبکہ نون لیگ کی پیشکش پرپیپلزپارٹی نے کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ پیپلزپارٹی میں فاروق ایچ نائیک کو چیئرمین سینیٹ بنانے کی تجویز بھی زیرغور ہے۔

پیپلزپارٹی رضا ربانی پر نہ مانی تو نون لیگ پرویزرشید کو اپنا امیدوار نامزد کرسکتی ہے، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری کہتے ہیں کہ کوشش ہے اپوزیشن کے ساتھ مل کرچیئرمین سینیٹ بنائیں، اپوزیشن سے رابطہ کررہے ہیں ن لیگ سے نہیں۔بلاول بھٹو کی یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آتی کیوں کہ عمران خان اپنی ساکھ بچانے اور سولو فلائیٹ کے چکر میں ایک بار پھر اپوزیشن میں دراڑ ڈالنے سے باز نہیں آئیں گے اگر اتحاد کرتے بھی ہیں تو اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کے سوالات کے جوابات دینا ان کیلئے مشکل ہوجائیں گے۔