بینچ کی جگہ چارپائیاں، کرائے کی دکان میں انوکھا سکول قائم

بینچ کی جگہ چارپائیاں، کرائے کی دکان میں انوکھا سکول قائم


لاڑکانہ(24نیوز) ایک ایسا انوکھا گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول جس کی بلڈنگ نہیں، علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کرائے کے دکان پر بچوں کو تعلیم دلا نے پر مجبور۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں تعلیمی ایمرجنسی تو عائد کردی گئی۔ حکومت کی جانب سے کہیں پر کروڑوں روپے کی لاگت سے ایسے مقامات پر اسکول بنائے گئے جہاں پر اسکول سالوں سے بند اور ویران ہیں۔ مگر لاڑکانہ کے تحصیل ڈوکری کے گاوں علی نواز گاڈھی میں قائم ایک ایسا انوکھا گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول ہے جہاں پر بلڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کرائے کے دکان پر بچوں کو تعلیم دلا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ویمن ڈگری کالج میں سیوریج کا گندا پانی جمع ، تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنا محال 

علاقہ مکینوں کا مزید کہنا تھا کہ گورنمنٹ کو اسکول کی نئی عمارت بنانے کے لئے رضاکارانہ طور پر فری میں پلاٹ بھی دینے کے لئے تیار ہیں تاکہ سرکاری سطح پر اسکول کی عمارت تیار ہوکر بچے تعلیم حاصل کرسکیں۔گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول علی نواز گاڈھی کے کرائے کی دکان میں 150 سے زائد طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسکول میں بچوں کے بیٹھنے کے لئے بینچ کم پڑنے پر چار پائی پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتےہیں۔ اگر یہاں پر نہیں ہے تو صرف اسکول کی سرکاری عمارت نہیں جہاں پر بچے سلیقے سے بیٹھ کر تعلیم حاصل کر سکیں۔

علاوہ ازیں سندھ سرکار اور محکمہ تعلیم کو چاہئے کہ وہ گاوں علی نواز گاڈھی میں قائم گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کے لئے نئی بلڈنگ بنایا جائے تاکہ مستقبل کے معمار تعلیم زیور سے آراستہ ہوں۔