کراچی میں داعش گھس آئی، اہم دہشتگرد پکڑا گیا، ایف آئی اے کے سامنے سب راز اُگل دیئے


 کراچی (24 نیوز) پاکستان میں دہشت گرد تنظیم داعش کے حوالے سے نت نئے تجزیے اور مفروضے سامنے آتے رہے لیکن ان پر مہرِ تصدیق ثبت اس وقت ہوئی جب داعش کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کی گرفتاریاں عمل میں آنا شروع ہوئیں۔

کراچی سے منگل کے روز داعش کا اہم دہشت گرفتار ہوا جس نے اہم انکشافات کیے جس کے بعد پاکستان میں ایک بار پھر دہشت گرد تنظیم کے وجود کے ثبوت مہیا ہو گئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے گرفتار ہونے والے دہشت گرد کا نام بھی سامنے آ گیا ہے اور اس کے گرفتاری کے بعد انکشافات بھی سامنے آ گئے ہیں۔ یہ سب بتانے سے قبل کچھ حقائق سے اٹھانا بھی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شامی فضائی حملے، بمباری ، سینکڑوں جاں بحق، عالمی ادارے میدان میں آگئے

گزشتہ برس کراچی ہی سے ایک دہشت گرد خلیل الرحمان کی گرفتاری عمل میں آئی۔ خلیل الرحمان کے قبضہ داعش کے ساتھ تعلق کے مختلف ثبوت بھی ملے۔ گرفتاری کے بعد ملزم کو ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا گیا۔ جس کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تو ملزم نے داعش کے ساتھ تعلقات کا اعتراف بھی کیا۔

داعش رکھنے والے ملزم خلیل الرحمان نے عدالت کے سامنے کیے گئے اعتراف کہا تھا کہ داعش ارکان سوشل میڈیا کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ سب بیان خلیل الرحمان نے اس وقت دیئے جب ایف آئی اے نے ملزم کو سٹی کورٹ میں پیش کیا۔ جہاں اس نے بتایا کہ پہلے سکھر سے کراچی آیا۔ جہاں شروع میں طالبان کے لیے کام کیا بعد ازاں داعش کا حصہ بنا۔ میری ذمہ داری شوشل میڈیا کے ذریعہ لوگوں کو داعش میں شمولیت پر اکسانا تھا۔ لیکن ساتھ خلیل الرحمان نے یہ کہا کہ میں نہیں جانتا پاکستان میں اور کون کون داعش کے لیے کام کر رہا ہے۔

ضرور پڑھئے: سری لنکا میں بدھ مت اور مسلمانوں کے درمیان فسادات ، ایمرجنسی نافذ

ایف آئی اے کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ملزم کراچی بذریعہ ٹرین پہنچا۔ کینٹ اسٹیشن کراچی سے گرفتاری عمل میں لائی گئی جس کے لیے خفیہ اطلاعات تھیں۔ خلیل الرحمان کے قبضہ سے دہشت گرد تنظیم داعش کے جھنڈے ملے، لٹریچر بھی تھا اور اسلحہ میں برآمد کیا گیا تھا۔

خلیل الرحمان نے سوشل میڈیا پر اپنا نام افضل خان رکھا ہوا تھا اور داعش کے پروپیگنڈہ کو فروغ دینے میں کوشاں تھا۔ خلیل الرحمان کے حوالے سے یہ انکشاف بھی سامنے آیا تھا کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ لڑکیوں کو دہشت گرد تنظیم داعش کی جانب راغب کرتا تھا۔ ملزم نے اس بات کا بھی اعتراف کیا تھا کہ وہ اسلام آباد میں لڑکیوں کی بھرتی کے حوالے سے کام کر رہا تھا۔

عدالت کی جانب سے کیے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ملزم نے بتایا کہ رابطہ ہمیشہ کوڈز کے ذریعہ کیا جاتا تھا۔

موجود گرفتاری بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ منگل کے روز شیخ عمران نامی داعش کے دہشت گرد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کے حساس ادارے اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو شکست دینے کا مکمل لائحہ عمل تیار کر لیا اور اس جنگ میں جیت کا عزم کر رکھا ہے۔

شہر قائد سے ایف آئی اے کی انسداد دہشت گردی ونگ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے شیخ عمران کو گرفتار کیا۔ شیخ عمران سوشل میڈیا پر داعش کے لیے مبینہ طور پر ذہن سازی کرتا تھا۔

 پڑھنا نہ بھولئے: سعودی عرب ، گرفتار غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد 7لاکھ تک پہنچ گئی

ایف آئی اے کے مطابق مبینہ دہشت گرد شیخ عمران سوشل میڈیا پر سیف الاسلام خلافتی کے نام سے کام کر رہا تھا۔ ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیرر ازم ونگ نے شیخ عمران کو شیریں جناح کالونی سے گرفتار کیا۔

ایف آئی اے نے اپنی ریڈ رپورٹ میں بتایا کہ اطلاع تھی کہ شیخ عمران شیریں جناح کالونی سے ضیا الدین ہسپتال کی طرف جائے گا جس کے بعد کارروائی کی گئی۔ ایف آئی اے کی جانب سے ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کے روبرو پیش کیا گیا۔ ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سوشل میڈیا کے ذریعہ داعش میں شمولیت کے لیے لوگوں کی ذہن سازی کرتا تھا۔

ملزم شیخ پہلے سے گرفتار داعش کے کارندے خلیل الرحمان کا قریبی ساتھی ہے۔ جو سوشل میڈیا پر 50 سے زائد پیچ کے ذریعہ نوجوان نسل کی داعش کے لیے ذہن سازی کر رہا تھا۔ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے عدالت سے ملزم کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منطور کرنے کی استدعا کی تاہم عدالت نے ملزم سیف الاسلام خلافتی کو2 روزہ جسمانی ریمانڈ ایف آئی اے حکام کے حوالے کیا۔واضح رہے کہ ملزم پر سائیبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔

شہر قائد سے گرفتارداعش کے دہشت گرد شیخ عمران کو دو روز کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا۔ ملزم سوشل میڈیا پر لوگوں کی ذہن سازی کرتا تھا۔

24 نیوز کے مطابق شیخ عمران پاک افغان بارڈر کے علاقہ میں بابا جانی اور کراچی میں نور نامی شخص سے رابطہ میں تھا۔ جو ملزم کی مالی معاونت بھی کرتے تھے۔

اہم خبر : عالمی میڈیا نےشامی مظلومیت کاجعلی ڈرامہ رچاکرانسانیت کوشرمسارکردیا

داعش کے حوالے سے جنوری 2018 میں پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کی جانب سے رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں خطرہ کی گھنٹی بجائی گئی تھی کہ گزشتہ برس داعش ایک بڑا خطرہ بن کر ابھری۔ جس کے لیے ثبوت کے طور پر اس امر کا اظہار کیا جا سکتا ہے کہ محض 2017 میں داعش کی جانب سے پاکستان میں ہونے والے 6 حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی جن میں 150 سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔

سیہون شریف پر ہونے والے حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بھی داعش کی طرف سے کیا گیا تھا جبکہ چینی شہریوں کے اغوا اور قتل کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی۔ بلوچستان کے علاقہ مستونگ مین مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلہ پر ہونے والے حملہ کی ذمہ داری بھی داعش کی جانب سے قبول کی گئی۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ فرقہ وارانہ شدت پسند گروہ داعش کا رُخ کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فرقہ وارانہ وارداتوں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس میں سندھ اور بلوچستان پہلے ہیں جہاں داعش کی طرف سے حملے کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ 2017 میں پاکستان میں کل 3 سو 70 حملے کیے گئے جن میں 8 سو 15 افراد مارے گئے اور 17 سو زائد زخمی ہوئے تھے۔

اس حوالے سے پاکستان پر الزامات بھی لگائے جاتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس افغانستان کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ داعش کی افغانستان میں موجودگی پاکستان کے مرہون منت ہے کیونکہ افغان طالبان کے کمزور پڑنے کی صورت میں اس کو متبادل پریشر گروپ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

ان الزامات کو پاکستان کی جانب سے بے بنیاد قرار دیا گیا تھا۔

مزید  جانئے: افغان حکومت نے طالبان کو سیاسی جماعت تسلیم کرلیا

2016 میں داعش کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا نے انکشاف کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ داعش پاکستان میں مبیہ طور پر موجود بھی ہے اور وہاں موجود ازبک جنگجوؤں کو بھرتی بھی کر رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ ناراض طالبان کو اپنی طرف راغب کرنے میں کوشاں ہے۔ یہی نہیں بلکہ فرقہ پرست گروہ کے ساتھ راہ و رسم بڑھانے کا بھی انکشاف کیا گیا تھا۔

یہ سب انکشاف اس وقت سامنے آئے تھے جب بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک صوفی بزرگ کے مزار پر خود کش حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں 50 سے زائد جاں بحق جبکہ ایک سو زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

ان تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا یقین ضرور کیا جا سکتا ہے کہ داعش پاکستان میں اپنا وجود رکھتی ہے۔ اس وجود کا خاتمہ وقت کی اشد ترین ضرورت ہے۔ اگر داعش کی کارروائیوں سامنے آتی رہیں اور کچھ نہ کیا گیا تو یہ آنے والے وقتوں میں بڑے نقصان کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ شیخ عمران یا خلیل الرحمان جیسے مہروں کی گرفتاریوں پر ہی اکتفا نہ کیا جائے بلکہ اس کے پیچھے موجود ماسٹر مائنڈ کو پکڑا جائے۔