’’بابا رحمتے کا کہا قانون نہیں ہو سکتا‘‘ چیئرمین سینیٹ کا چیف جسٹس کے خلاف اعلان جنگ

11:19 PM, 6 Mar, 2018

احمد علی کیف

اسلام آباد (24 نیوز) چیئرمین سینیٹ رضا ربانی اور پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پارلیمنٹ کو آئین سے بالادست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسپیکر صوبائی اسمبلی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہونا پارلیمان کی بدقسمتی ہے۔ بابا رحمتے کہتے ہیں کہ آئین پارلیمنٹ سے بالاترہے اور وہ جو کہتے ہیں وہ آئین ہے، خدا کے لیے وہ ایسا راستہ اختیار نہ کریں۔

سینیٹ میں اپنی الوداعی تقریریں کرتے ہوئے سینیٹرز پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے ایک ہو گئے۔ چیئرمین سینیٹ رضاربانی نے واضح کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے پارلیمانی ریکارڈ کو منگوانا طے شدہ اصول کے منافی ہے۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان کہہ چکے ہیں کہ پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کریں گے۔ عدم مداخلت کا معاملہ آرٹیکل 69کے تحت طے کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:دانیال عزیز کی قسمت نے ساتھ نہ دیا، عدالت عظمیٰ نے سزاؤں کی فہرست مرتب کرلی 

انھوں نے مزید کہا کہ چند روز کے واقعات نے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ وہ آئینی اداروں میں مزید خلیج پیدا کیے بغیرعہدہ سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔ پارلیمنٹ اور اعلیٰ عدلیہ کے درمیان اختیارات کے تعین کے لیے چیف جسٹس سے مذاکرات ضروری ہیں۔

دوسری طرف پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا ججز پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جج صاحبان اپنا وقار بڑھانے کے لیے توہین عدالت قانون کا سہارا لیتے ہیں۔ بابا رحمتے اپنے ریمارکس کو آئین قرار دیتے ہیں۔ خدا کے لیے وہ ایسا نہ کریں۔

ضرور پڑھیں:غداری سے بچ گئے

ان کا مزید کہنا تھا کہ کہیں آئندہ الیکشن ریفرنڈم میں نہ بدل جائے۔ دوسرے اداروں کی طرف سے پارلیمنٹ پر شب خون مارنے پر تشویش ہے۔ احتساب کمیٹی میں سب کے احتساب کی بات آئی توسب پیچھے ہٹ گئے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی ختم ہونے پر افسوس ہے۔

پڑھنا نہ بھولئے: چیئرمین سینیٹ کا انتخاب حکومت،اپوزیشن دونوں کیلئے امتحان بن گیا

فرحت اللہ نے واضح کیا کہ دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کی مہم دیکھ کر خوف آتا ہے۔ پارلیمنٹ ڈی فیکٹو ریاست ختم نہیں کرے گی تو اداروں میں ٹکراؤ ہو گا۔

مزیدخبریں