احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ، تحقیقات کیلئے جی آئی ٹی بنانے کا فیصلہ


نارووال (24 نیوز) وزیر داخلہ احسن اقبال پر فائرنگ کا معاملہ ،  لاہور کے سروسز اسپتال میں آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا، ڈاکٹرز کے مطابق اب وہ پہلے سے بہت بہتر ہیں، اور انہیں آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا ہے۔جبکہ تحقیقات کیلئےجےآئی ٹی بنانےکافیصلہ کرلیا گیا۔

گزشتہ روز  نارووال میں کارنر میٹنگ کے بعداحسن اقبال اپنی گاڑی کی جانب جارہے تھے۔  اسی دوران 21سالہ عابد نامی نوجوان نے ان پر فائرنگ کردی ۔ فائرنگ کے بعد انھیں ناروال ہسپتال لے جایا گیا ، جبکہ کچھ ہی دیر بعد بذریعہ ہیلی کاپٹر انھیں لاہور سروسز ہسپتال ریفر کردیا گیا ۔اس موقع پر ان کی عیادت کرنے کے لیے وزیراعلیٰ شہبازشریف سروسز اسپتال پہنچ تھے۔  جبکہ حملہ آور کو سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بالغ لڑکا اور لڑکی بغیر شادی کے۔۔۔ بھارتی سپریم کورٹ کا حیران کن فیصلہ 

ڈی پی او نارووال کا کہناہے کہ احسن اقبال پر فائرنگ شکر گڑھ کے علاقے کنجروڑ میں ہوئی اور گولی دائیں بازو میں لگی، جبکہ حملہ آور مقامی رہائشی ہے۔جسے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

وزیر اعظم ،آرمی چیف اور سیاسی رہنماؤں کی مذمت 

 آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے  ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا  کی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نےاحسن اقبال پرحملے کی مذمت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ دوسری جانب امریکاکی جانب سے بھی وزیرِداخلہ احسن اقبال پرحملے کی مذمت کی گئی ہے۔ امریکی سفیرڈیوڈہیل نے ٹویٹ کیاکہ وہ احسن اقبال کی جلد صحت یابی کیلئےدعاگو ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھائی نے میری بیٹیوں کے ساتھ۔۔گلوکارہ نازیہ اقبال نے بھیانک انکشاف کردیا

 مریم نوازنےاحسن اقبال پرفائرنگ کرنے والے ملزم کومہرہ قراردے دیا۔اپنے ٹویٹر پیغام میں مریم نوازکاکہناہے احسن اقبال پرفائرنگ کرنے والے کوسیاسی مقاصدکے لئے استعمال کیا گیا۔ ملزم کواستعمال کرنےوالےواقعہ کے اصل ذمہ دارہیں۔سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پران کامزیدکہناتھااللہ احسن اقبال صاحب کوزندگی اورصحت عطا فرمائے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور خیریت دریافت کی ۔انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر تحقیقات کا جائزہ کر رہا ہوں ، ذمہ داروں کو سزا دلوائی جائے گی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے احسن اقبال پر حملہ کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ احسن اقبال پر حملہ انہی طاقتوں نے کروایا جو گزشتہ 30سال سے اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ فائرنگ کرنے والے کی عمر 20سے 22سال ہے جسے گرفتار کر لیا گیا ۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپکر نے واقعہ پر شدید الفاظ میں مزمت کی ۔

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے احسن اقبال پر حملے کی مذمت  کی اور  کہا کہ وزیر داخلہ پر حملہ ملکی سیکیورٹی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔انھوں  نے کہا کہ الیکشن سے پہلے سیکیورٹی کے لیے حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

پڑھنا مت بھولیں: اپنوں نے ٹھکرایا،غیروں نے سر آنکھو ں پر بٹھایا

سابق صدر آصف زرداری نے اور ان کے صاجزادے بلاول بھٹو نے احسن اقبال پر فائرنگ کی مذمت کی اور کہا  کہ ایسے واقعات کو روکنا ہو گا۔

 پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان،نے احسن اقبال پر حملے کی مزمت کی ، اس کے علاوہ پی ٹی آئی کی جانب سے جہانگیر ترین، چودھری سرور ، فواد چودھری، اسد عمر، عثمان ڈار سمیت دیگر سیاست دانوں نے بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

امیر جماعت سراج الحق نے وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کو   بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ انہوں نےحملے کی مزمت کی۔

یہ خبر بھی لازمی پڑھیں:بجلی بنانے کا دعویٰ کرنے والے خود بجلی چور نکلے

حملہ آور کون تھا اور مقاصد کیا تھے؟

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نارووال میں کارنر میٹنگ سے خطاب کر کے جارہے تھے کہ عابد نامی شخص نے رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے احسن اقبال پر پستول فائرنگ کی جو ان کے دائیں بازو سے گزرتی ہوئی پیٹ کے نچلے حصے میں داخل ہوگئی۔ سکیورٹی پر معمعور اہلکارون نے اسے پکڑ لیا اور اس کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا۔ ملزم عابد ویرم گاؤں کا رہنے والا ہے ۔

اب تک کی تفتیش کے مطابق ملزم عابد حسین نے تحریک لبیک کے ساتھ اپنی وابستگی بھی ظاہر کی ہے ۔

عابد کی بہن بھی اس کی اس حرکت کو سمجھ نہ پائی ۔ ان کا کہنا ہے کہ عابد گھر سے بنا بتائے نکلا تھا ، سمجھ نہیں آیا کہ اس نے حملہ کیوں کیا۔

ڈی پی او نارووال عمران کشور نے بتایا کہ ملزم نے 30بور کے پستول سے 15 گز کے فاصلے سے فائرکیا۔ انھوں نے کہا کہ ملزم سے مزید تفتیش ابھی جاری ہے۔

جے آئی ٹی کی تشکیل

 ڈی پی او نارووال نےتحقیقات کیلئےجےآئی ٹی بنانےکافیصلہ کیا گیا۔آئی جی پنجاب نے جےآئی ٹی کیلئے3افسران کے نام سیکرٹری داخلہ کوبھجوادیئے۔ افسران میں ڈی آئی جی وقاص نذیر،ایس پی خالدبشیراورڈی ایس پی نارووال شامل ہیں۔

جبکہ پولیس نے منتظم گلفام کیول کو بھی حراست میں لے لیاکیوں کہ اس نے جلسہ سے متعلق  پولیس کوآگاہ نہیں کیا تھا۔

پولیس نے ملزم عابد حسین کے سہولت کار کو بھی حراست میں لے لیا ۔ سہولت کار ملزم کو موٹر سائیکل پر جلسہ گاہ تک لے کر آیا تھا۔

 ملزم عابد کا بیان

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملہ کرنے والے ملزم عابد حسین نے پولیس کو بیان دے دیا ۔ملزم نے کہا کہ وہ احسن اقبال کو ہی ٹارگٹ کرنے آیا تھا۔بیان میں ملزم نے کہا کہ اس نے 15 ہزار کا پستول لیا تھا ، علاقہ کا ہونے کی وجہ سے احسن اقبال کا قتل کرنا آسان تھا۔

 پولیس کے مطابق ملزم سے برآمد کی گئی پستول میں 9 گولیاں تھیں اور  ملزم  دوپہر 3 بجے سےکارنر میٹنگ میں مسلح بیٹھا ہوا تھا۔