سینیٹ انتخابات کیلئے جوڑ توڑ جاری،سندھ اسمبلی میں پارٹی پوزیشن دلچسپ صورتحال اختیار کرگئی


کراچی( 24نیوز)سندھ میں سینیٹ انتخابات کے لئے جوڑتوڑجاری ہے،168 ممبران پرمشتمل سندھ اسمبلی کے کئی منحرف ارکان بیرون ملک جاچکے،پارٹی پوزیشن دلچسپ صورتحال اختیار کرچکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں سینیٹ کی کل 12 نشستوں کے لئے ووٹنگ 3 مارچ کو ہونے جارہی ہے،سندھ میں سینیٹ کی کل 12 نشستوں میں سے 7 جنرل نشستیں ہیں، جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی دو دو اور ایک نشست اقلیتوں کے لئے مختص ہے۔ سندھ اسمبلی میں کے کل ارکان کی تعداد 168 ہے جن میں سے دو ارکان میر ہزار خان بجارانی اور سردار احمد علی پتافی انتقال کر گئے ہیں جس کے باعث ووٹنگ کے لئے 166 ارکان کو ہی شامل کیا جائے گا۔

اس وقت سندھ اسمبلی میں اگر پارٹی پوزیشن کو دیکھا جائے تو سینیٹ الیکشن میں مقابلہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں ہی ہے، اس وقت پیپلز پارٹی کے پاس اسمبلی 95 ارکان ہیں، جبکہ ایم کیو ایم کے پاس 50 ارکان تھے تاہم 13 اراکین کے منحرف ہونے کے بعد یہ تعداد 37 ہوچکی ہے۔

ایم کیوایم کے منحرف ارکان میں سے 4 ملک سے باہر ہیں جبکہ دیگر نو ارکان میں سے 7 پی ایس پی میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں، جبکہ ایک پیپلز پارٹی اور ایک رکن ارم عظیم فاروقی نے بھی ایم کیو ایم سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔

فنکشنل اور ن لیگ کی کل 06 سیٹیں ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے بھی کل 4 ارکان میں ایک منحرف ہوکر پاک سرزمیں پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں،اسی حساب سے کل 166 ارکان 7 جنرل نشستوں پر ووٹ دیں گے اور ایک سنینٹ کی جنرل نشست کے لئے 24 ارکان اسمبلی کے ووٹ درکار ہونگے، جبکہ خواتین کی دو مخصوس نشستوں پر ہر ایک نشست کے لئے 83 اور اسی طرح اسی طرح ٹیکنوکریٹ کی بھی دو نشستوں پر فی نشست 83 ووٹ درکار ہونگے، جبکہ ایک نشست اقلیتوں کے لئے محدود ہے، جو بلا مقابلہ پیپلز پارٹی کے ہی حصے میں آئے گی۔