گدھے آنہیں رہے، گدھے آچکے ہیں۔ ۔ ۔

مناظرعلی

گدھے آنہیں رہے، گدھے آچکے ہیں۔ ۔ ۔


وزیراعظم کے منہ سے مرغیوں اورکٹوں کی بات سن کراپنے پرائے سب حیران تھے اوراسے شیخ چلی سے تشبیہ دیتے ہوئے بچگانہ تصورکررہے تھے،حتی کہ ہرروزناشتے میں انڈے کاناشتہ کرنے والے بھی اس کی اہمیت نہ سمجھ سکے اورنہ ہی انہیں یہ خیال آیا کہ غریب کے آنگن میں مرغیوں کی کیا قدرہے،اگرچندہزارمرغیوں کی تقسیم سے کچھ گھرانوں کومفت کاانڈہ مل جائے توتمہارا کیاجاتاہے بھئی۔۔؟؟لیکن ٹھہرئیے اور اپنی تنقید کے نشترذرا اورتیز کرلیجیے کہ آپ کے لطیفوں کوایک نیاموضوع ملنے والا ہے، محکمہ لائیوسٹاک خیبرپختونخواہ نے اب گدھوں کی برآمدکے منصوبے کے پیش نظرمانسہرہ اورڈی آئی خان میں گدھوں کے فارمزبنانے کافیصلہ کرلیاہے اورمزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں سستے کھلونےاورموبائل بیچنے والے ملک نے ہی اس میدان میں بھی قدم رکھاہے،یعنی چین گدھوں کے معاملے میں ہمارے ساتھ پارٹنرشپ کررہاہے ،توذرا سوچیے چین نے ہمیں سستے موبائل دیئے توہمارے ہال روڈاورحفیظ سنٹرسمیت ہرشہرکی موبائل مارکیٹوں میں کتناکاروبارہورہاہے،اب اگرگدھوں پرچین پوری طرح سنجیدہ ہوگیاتوپھرہرطرف کیاہوگا؟؟۔۔۔۔۔

گدھوں کے منصوبے کاذکر کرنے سے پہلے ہم ذرا گدھوں کی اہمیت پربھی روشنی ڈال لیتے ہیں،تاکہ گدھا صرف"گدھا"ہی نہ لگے،،ویسے اگراجازت دیں تویہاں میں اُس گدھے کے "بچے" کابھی ذکرکردوں جسے پیداہوتے ہی ہم سب گدھاہی سمجھتے تھے،اُس گدھے کوکسی کام کا،نہ کاج،دشمن اناج کاسمجھ کربس حویلی میں ویسے ہی چھوڑکررکھتے تھے کہ اس پرمچھلی اورپرندوں کے شکارسے شہرت پانے والے ہمارے گاؤں چک بھٹی کے چاچاخوشی کی نظرپڑگئی اوروہ اسے رسہ ڈال کراپنے ساتھ "جگن پورہ"لے گیا،پھرہم نے دیکھاکہ وہی گدھاسلجھاسلجھانظرآنے لگا اورایک شریف جانورکی طرح چاچاخوشی کاسارا وزن اٹھالیتاتھا،،بات اہمیت دینے کی ہے،ہم نے بے رخی کی اورچاچاخوشی نے گدھے کواپنالیا۔۔۔شایدگدھوں کے اس منصوبے میں بھی یہ سین لگ رہاہے کہ دنیاجنہیں گدھاکہتی ہے خیبرپختونخواہ والوں نے اس کی اہمیت جان لی ہے اورپھرچین کی دلچسپی سونے پہ سہاگہ ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔خیرہم گدھوں کی اہمیت پرکچھ کہناچاہ رہے تھے ۔۔۔

گدھے اگرکسی کی زندگی میں ہیں تووہ یہی سمجھتاہوگا کہ گدھوں کے بغیربھی بھلاکوئی زندگی ہے؟؟۔۔ہم اگرایتھوپیاکے دارالحکومت ادیس ابابا کاجائزہ لیں تووہاں گدھے کی اہمیت سے انکارممکن نہیں۔وہاں ایک محتاط اندازے کے مطابق پچاس لاکھ کے لگ بھگ گدھے پائے جاتے ہیں اور وہاں کے تقریبا ہربارہ لوگوں کے حصے میں ایک گدھاآتاہے۔ایتھوپیا کے لاکھوں باشندے کوہستانی علاقوں میں دُور دُور رہتے ہیں۔‏ان علاقوں کے درمیان بیشمارچھوٹی چھوٹی ندیاں ہیں۔ ان مقامات پر پلوں کی تعمیر کرنا تو دُور کی بات کچی سڑکیں بنانا بھی مشکل ہے۔‏اس لئے کہ ایسا کرنے کے لئے کسی بھی مُلک کو بہت زیادہ وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔‏ پس آمدورفت کے لئے مضبوط قدم والا اور وفادار جانور گدھا بہترین ذریعہ ہے۔‏گدھا ایتھوپیا کے ہر موسم کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ وہ خشک اورگرم نشیبی علاقوں اور پہاڑی خطوں کا موسم برداشت کر سکتا ہے۔‏ گدھا ڈھلوانوں،‏ تنگ گلیوں،‏ دریا کے پتھریلے کناروں،‏ کیچڑ اور دیگر ناہموار راستوں پر بڑی آسانی سے چل سکتا ہے۔‏ یہ وہاں بھی جا سکتا ہے جہاں گھوڑا یا اُونٹ نہیں جا سکتے۔‏ ۔‏ گدھے تنگ گلیوں سے بھی بڑی آسانی سے گزر جاتے ہیں اور باڑ والے راستوں میں بھی اپنے لئے راستہ بنا لیتے ہیں۔‏ اُنہیں مہنگے ٹائروں کی ضرورت نہیں پڑتی اور اُنہیں شاذونادر ہی پھسلنی جگہوں میں کوئی مسئلہ ہوتا ہے۔‏ وہ ہر طرح کا اور ہر سائز کا وزن اُٹھاتے ہیں اور کہیں بھی گھر تک سامان پہنچا سکتے ہیں۔‏ گدھے ٹریفک جام میں بھی بڑی آسانی سے اپنا راستہ بنا لیتے ہیں جبکہ گاڑیاں چلانے والے ڈرائیور لال‌پیلے ہوکر ہارن پر ہارن بجاتے ہیں۔‏ اگر کوئی گدھا ون‌وے سٹرک سے غلط طرف بھی آ جاتا ہے تو کوئی پولیس افسر اُسے جُرمانہ ادا کرنے کے لئے نہیں کہے گا۔‏ اگرچہ گاڑیوں کی پارکنگ ایک مسئلہ ہے توبھی گدھوں کی پارکنگ کوئی مسئلہ نہیں۔‏‏ گدھے جو وزن اُٹھاتے ہیں اس میں گندم کی بوریاں،‏ سبزیاں،‏ لکڑی،‏ سیمنٹ کے بیگ،‏ بوتلوں کے ڈبے اور کوئلہ شامل ہوتا ہے۔‏ اس کے علاوہ،‏ وہ لوہے کے ڈرم بھی اُٹھاتے ہیں جن میں کھانا پکانے کا تیل ہوتا ہے۔‏ بعض گدھے 90کلو یا اس سے زیادہ وزن اُٹھاتے ہیں۔‏ بھاری وزن جیساکہ بانس یا سفیدے کے لمبے ڈنڈے ان کے ساتھ باندھ دئے جاتے ہیں جنہیں وہ سڑک پر کھینچتے ہوئے چلتے ہیں۔‏ شاید سب سے انوکھا منظر وہ ہوتا ہے جب گدھوں پر بھوسا رکھ دیا جاتا ہے جس کے نیچے وہ تقریباً چھپ جاتے ہیں۔‏

گدھے اپنی خوراک خود ہی تلاش کر لیتے اور کچھ بھی کھا لیتے ہیں اس لئے انہیں اتنی توجہ دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔‏ جب ان کے ساتھ اچھا سلوک کِیا جاتا ہے تو انہیں اپنے مالک کے ساتھ اُنسیب ہو جاتی ہے۔‏ گدھے گھوڑوں سے بھی زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔‏ انہیں راستے اچھی طرح یاد رہتے ہیں،‏ گدھے محنتی ہوتے ہیں لیکن بوجھ کے وزن اور اپنے آرام کے بارے میں اپنی ضد کے بڑے پکے ہوتے ہیں۔‏ ایسی صورت میں یا جب وزن آڑا ٹیڑھا رکھنے کے باعث انہیں درد ہوتا ہے تو یہ بیٹھ جاتے ہیں۔‏ ایسے وقت میں ان کے بارے میں غلط رائے قائم کر لی جاتی اور انہیں بُرابھلا کہا اور ماراپیٹا جاتا ہے،خیر‏ایتھوپیا میں گدھوں کی تاریخ بہت پُرانی ہے مگر پھربھی لوگوں کی زندگیوں سے اس کی اہمیت ختم نہیں ہوئی۔‏ اگرچہ ٹرکوں اورکاروں کے ماڈل بدلتے رہتے ہیں توبھی گدھے کا ماڈل نہیں بدلا۔‏ گدھے واقعی قابلِ‌قدر ہیں اوراس قدرکوایتھوپیا کے بعداب پاکستان نے بھی جان لیا،آج تک جن گدھوں کو" گدھے "کہاجاتارہا ،آج اس کی پہچان ایک مفیدجانورکے طورپرہونے جارہی ہے۔

خبرکے مطابق محکمہ لائیو سٹاک کا کہنا ہے کہ گدھوں کی برآمد کے منصوبے میں رواں سال اہم پیش رفت متوقع ہے، ابتدائی مرحلہ میں بیمار، لاغر اور معذور گدھے سپلائی کریں گے۔ابتدائی تین سال کے دوران 80 ہزار گدھے برآمد ہوں گے ۔محکمہ لائیو سٹاک نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی کمپنیاں گدھوں کے فارمز میں دلچسپی رکھتی ہیں جب کہ غیر ملکی کمپنیاں 3 ارب ڈالرز تک سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔خیبرپختونخوا کے محکمہ لائیو سٹاک کے مطابق صوبے کے 70 ہزار خاندانوں کا روزگار گدھوں سے وابستہ ہے اس لیے گدھوں کی برآمد اور فارمز کے لیے معاہدہ سوچ سمجھ کر کرنا چاہتے ہیں تاکہ صوبے میں بھی گدھوں کی کمی نہ ہو۔ گدھوں کے مختلف اجزاء ادویات اور فرنیچر کی تیار میں استعمال ہوتے ہیں اور چین میں گدھے کے بالوں کی بھی مانگ زیادہ ہے۔اس لیے بھئی اب لطیفے بے شک بنائیں مگراس منصوبے کی اہمیت سے انکارممکن نہیں، کیوں کہ کٹے،مرغی اورانڈے کے بعد" گدھے "صرف آنہیں رہے، گدھے آچکے ہیں ۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔