محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے خواجہ سراؤں کو بھی ماموں بنا دیا

محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے خواجہ سراؤں کو بھی ماموں بنا دیا


 پشاور(24نیوز) خیبر پختونخوا کے خواجہ سراؤں میں ایڈز کی بڑھتی تشویشناک صورتحال اور صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کی لاپرواہی سامنے آگئی، حکومت کا ان کے گھروں میں سکریننگ سنٹر کے قیام کا اعلان مخص اعلان ہی رہا۔

تفصیلات کے مطابق خواجہ سراؤں کے گھروں میں ایڈز سکریننگ سینٹر بنانے کے دعوے جھوٹ اور غلط بیانی کے سوا کچھ بھی نہیں، خواجہ سراؤں نے عدالت جانے کا عندیہ دیا اور وزیر صحت سے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا، وزیر صحت نے ایڈز سکریننگ سنٹر نہ ہونے کیخلاف خواجہ سراؤں کے احتجاج کا نوٹس لے لیا۔

خیبرپختونخواصوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سلیم کے خلاف انکوائری مقرر کردی، ایک ہفتے میں رپورٹ طلب دو رکنی انکوائری کمیٹی میں ڈی جی ہیلتھ سروسز ارشد خان اور ڈاکٹر طاہر ندیم شامل ہیں، شکایات دور کرنے کیلئے وزیرصحت نے خواجہ سراؤں کیساتھ اجلاس بھی طلب کرلیا ، ڈاکٹرہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ خواجہ سراؤں کے تمام صحت حقوق کا تحفظ کرینگے۔

کنٹرول پروگرام کی جانب سے خواجہ سراؤں کی سکریننگ سنٹر  نہ ہونے کے الزام کی تحقیقات کرینگے، انکوائری کے بعد ذمہ داری کا تعین کیاجائیگا اور سخت ایکشن لیں گے،واضح رہے کہ 20اکتوبر کو یو این ایڈز نیوکنٹری ڈائریکٹر فار پاکستان ماریہ علینا جی نے پشاور دورہ کرکے خواجہ سراؤں کے ایڈز سکریننگ سنٹر میں تعاون کا اعلان کیا تھا۔

M.SAJID KHAN

CONTENT WRITER