نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کے ٹھیکے ایسی کمپنیوں کو دیئے گئے جن پر پابندی تھی، رپورٹ آگئی

نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کے ٹھیکے ایسی کمپنیوں کو دیئے گئے جن پر پابندی تھی، رپورٹ آگئی


اسلام آباد(24نیوز) نیواسلام آبادائیرپورٹ کی تعمیر میں کرپشن کیسے کئی گئی؟ 24نیوزنےایف آئی اے رپورٹ حاصل کرلی۔

ایف آئی اے کی رپورٹ پر آج پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ رپورٹ 10جولائی 2014 کو سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تھی۔تحقیقات کے بعد ایف آئی اے نے سول ایوی ایشن کے سات افسران اور چھ کنسلٹنٹس اور کمپنیوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی سفارش کی تھی۔

ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ میں 11بڑی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔اپنی رپورٹ میں ایف آئی اے نے نیو ایئر پورٹ کے پی سی ون کو ناقص قرار دیا۔رپورٹ کے مطابق زمین کی خریداری کا عمل نقائص سے بھرپور تھا۔

رپورٹ بتاتی ہے کہ تمام کنسلٹنٹس فررمز کی جانب سے غیر معیاری خدمات دی گئیں۔ایمرجنسی رن وے کو سکینڈری رن وے میں تبدیل کیا گیا۔ایسے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی گئی جن کے سربراہ انجینئرز نہیں تھے، کئی ٹھیکے ایسے کمپنوں کو دیئے گئے جن پر عالمی سطح پر پابندی تھی۔

پی اے سی میں انکشاف کیاگیاکہ سول ایوی ایشن نے ملوث افسران کے خلاف فرضی کارروائی کرتےہوئےتین افسران کو ڈی موٹ کیا۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔