”بلاول بھٹو معصوم ہیں“ سپریم کورٹ نے کلین چٹ دیدی


اسلام آباد( 24نیوز ) سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو معصوم قرار دے کر کلین چٹ دے دی۔  بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاﺅنٹس اور منی لانڈرنگ کیس پر بننے والی جے آئی ٹی رپورٹ کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اومنی گروپ کا سیاستدانوں اور نجی پراپرٹی ٹائیکون سے گٹھ جوڑ دیکھنا ہے, ایسا مکسر کیاہے کہ اس کی لسی بن گئی ہے، کیا اوپر سے فرشتے آکر جعلی بنک اکاﺅنٹس کھول گئے۔

جسٹس اعجازالاحسن بولے کہ جے آئی ٹی کی تفتیش جعلی بنک اکاﺅنٹس تک محدود نہیں تھی،چیف جسٹس نے کہا کہ مطمئن ہونا ہے کہ اومنی گروپ کا سیاستدانوں اور بحریہ ٹاﺅن سے گٹھ جوڑ ہے یا نہیں۔

وکیل اومنی گروپ نے جواب میں کہا کہ عدالت کو دیا گیا تاثر درست نہیں، عدالت اجازت دے کہ اصل تصویر پیش کر سکوں,اومنی گروپ نے شوگر ملیں قانون اور طریقہ کار کے مطابق خریدیں،,جسٹس اعجازالاحسن نے سوال اٹھایا کہ ملیں مفت تو نہیں لی نا ؟وکیل صفائی نے جواب دیا کہ پیسے جعلی اکاﺅنٹس سے آئے یہ غلط ہے کہ اومنی کا سندھ حکومت اور بحریہ سے کوئی گٹھ جوڑ ہے۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ جب ریفرنس دائر ہوگا تو اپنا دفاع کرلینا, چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ تفتیشی رپورٹ ہے اس پر فریقین کا جواب دیکھنا ہے،اتنا مواد آنے کے بعد معاملے کو کیسے ختم کر سکتے ہیں، اصل مسئلے سے ہٹ کر ای سی ایل پر توجہ مرکوز نہ کریں، وکیلوں نے قسم کھائی ہے کہ اصل مقدمے کو چلنے نہیں دینا، اعتراض ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا، جے آئی ٹی نیب کو ریفرنس دائر کرنے کی سفارش نہیں کر سکتی,وکیل منیر بھٹی جے آئی ٹی کی سفارش پر اعتراض ہے تو ہم نیب کو معاملہ بھیج دیتے ہیں، چارٹ دیکھا ہے کہ کس طرح کس سال سے اوپر اٹھے ہیں، کیسے سندھ بنک اور سمٹ بنک بنا لیئے,چیف جسٹس اب ان بنکوں کو ضم کررہے ہیں، ضم کرنے کا مقصد معاملے پر مٹی ڈالنا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بلاول بھٹو معصوم ہیں اس نے کیا کیا ہے،جے آئی ٹی رپورٹ کا وہ حصہ ڈیلیٹ کریں جس میں بلاول کا نام ہے،  جے آئی ٹی ہم نے بنائی میں نے بنائی، بریگیڈیئر صاحب آگے آکر بتائیں کیا ہم نے آپ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی،  کس کی ڈکٹیشن پر بلاول کا نام رپورٹ پر ڈالا-

 چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عام انتخابات سے متعلق اہم ریمارکس کہا جا رہا تھا الیکشن نہیں ہونگے، ہم نے پہلے ہی کہ دیا تھا ایک منٹ کی تاخیر نہیں ہو گی، ہم نے پہلے ہی کہ دیا تھا جمہوریت نا رہی تو ہم نہیں رہیں گے، جمہوریت بہت بڑی نعمت ہے،شہریوں کے بنیادی حقوق بھی اسی جمہوریت کے مرہون منت ہیں-

لطیف کھوسہ نے  کہا کہ ہم بھی جمہوریت کا ہی تحفظ چاہتے ہیں، چیف جسٹس نے  کہا کہ جمہوریت ارتقائی عمل میں ہے،  ہم کسی صورت جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دینگے،  لطیف کھوسہ نے  کہا کہ بلاول بھٹو کے حوالے سے جے آئی ٹی کی آبزرویشن پر تحفظات ہیں،  اگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھا گیا تو جمہوریت کیسے چلے گی، ہمیں سندھ حکومت سے الگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے-