دوسروں کو نصیحت، خود میاں فصیحت

دوسروں کو نصیحت، خود میاں فصیحت


اسلام آباد( 24نیوز )دوسروں کو اچھا کرنے کی تلقین کرنیوالوں کا اپنا کریکٹر ڈھیلا نکلا،منشیات فروشی کیخلاف مہم چلانے والے وزیر کے بھتیجے سے چرس برآمدہوگئی، اٹک کے تھانے میں مقدمہ درج ہوا،جیل گئے اور پھر رہائی بھی ہوگئی،تفتیشی کو ضمانت پر بھی شک ہونے لگا کہ ہوئی ہے یا نہیں۔

طلال نادر آفریدی کے خلاف مقدمہ گذشتہ ماہ 11 دسمبر 2018 کو تھانہ جنڈ اٹک میں درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی تفصیلات اب سامنے آئی ہیں،ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے ایک مشکوک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تو ملزمان نے گاڑی بھگا دی، جس پر پولیس نے گاڑی کا تعاقب کیا اور روک کر تلاشی لی تو اس میں سے آدھا کلوگرام سے زائد چرس برآمد ہوئی۔

ملزمان میں سے ایک طلال نادر آفریدی نے اپنا حالیہ پتا منسٹر کالونی اسلام آباد لکھوایا،تھانہ جنڈ کے تفتیشی افسر محمد رمضان نے بتایا کہ ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا،پتا نہیں ضمانت ہوئی بھی ہے یا نہیں۔

ادھر وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ قانون کے سامنے وزیر، مشیر یا تحریک انصاف کے کارکن سب برابر ہیں اور کوئی وزیر ہو یا اس کا رشتہ دار، قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، کسی ایک واقعے کی آڑ میں قبضہ اور ڈرگ مافیا کے خلاف وزارت داخلہ کی جنگ میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا، سازشی عناصر اور ان کے حواری اس بار بھی منہ کی کھائیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 18 دسمبر کو ایک تقریب سے خطاب میں وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے انکشاف کیا تھا کہ اسلام آباد کے بڑے تعلیمی اداروں میں 75 فیصد طالبات اور 45 فیصد طلبا آئس کرسٹل کا نشہ کرتے ہیں۔

یادرہے ملزموں نے ایف آئی آر میں جس گھر کا پتہ لکھوایا وہ منسٹر کالونی میں واقع ہے،وہ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کو الاٹ ہے،جس ملزم سے چرس برآمد ہوئی ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ شہریار آفریدی کا بھتیجا ہے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer