قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور



اسلام آباد(24نیوز) قومی اسمبلی میں مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سروسز ایکٹ ترمیمی بل  کثرت رائے  سے منظور کر لیا گیا۔جماعت اسلامی ،جے یو آئی ف،دو آزاد ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ 

قومی اسمبلی کا اہم ترین اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی صدارت ہوا۔وزیراعظم عمران خان بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس کے آغاز میں چیئرمین دفاعی کمیٹی امجد علی خان نےآرمی ایکٹ ترمیمی بل پرکمیٹی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔وزیردفاع پرویز خٹک نے آرمی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق اجلاس کی باضابطہ کارروائی سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی سے درخواست کی کہ وہ ایکٹ میں ترمیم سے متعلق تجاویز واپس لے لیں۔جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس ایکٹ میں بہتری کیلئے کچھ تجاویز تیارکی تھیں تاہم ایک حکومتی وفد آج ان کی جماعت کے رہنماوں سے ملااور اتحاد کاماحول پیدا کرنے کیلئے بل کی حمایت کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اتحاد برقرارکھنے اور خطے کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی تجاویز واپس لیتے ہیں۔

سپیکر کی ہدایت پر  وزیر دفاع پرویز خٹک نے آرمی ایکٹ،ائیرفورس ایکٹ اورنیوی آرڈیننس میں ترامیم کی علیحدہ علیحدہ تحاریک پیش کیں۔ اجلاس میں مسلح افواج کے سربراہان کے بارے میں قانون سازی کی علیحدہ علیحدہ منظوری دی گئی۔ پی ٹی آئی، ن لیگ اور پیپلزپارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے بل کی حمایت کی ۔ جماعت اسلامی، پی ٹی ایم اور جمیعت علمائے اسلام نے بل کی مخالفت کی اور احتجاجا قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کر گئے۔

  قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام 4بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ 

آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 کیا ہے؟

آرمی ایکٹ میں ترامیم کی تفصیل 24 نیوز نے حاصل کرلی، بل کوپاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 کا نام دیا گیا. آرمی ایکٹ ترمیم کے تحت موجود قانون میں نیا باب شامل کیا جائے گا  جس میں آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تعیناتی کا نام دیا گیا ہے، آرمی چیف کی تعیناتی کی مدت تین سال مقررکی گئی جبکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت پوری ہونے پر انہیں تین سال کی توسیع دی جا سکے گی۔

ترمیمی بل کے مطابق وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی مفاد اور ہنگامی صورتحال کا تعین کیا جائے گا، آرمی چیف کی نئی تعیناتی یا توسیع وزیراعظم کی مشاورت پر صدر کریں گے، ترمیمی بل کے تحت آرمی چیف کی تعیناتی، دوبارہ تعیناتی یا توسیع عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکے گی، نہ ہی ریٹائر ہونے کی عمر کا اطلاق آرمی چیف پر ہو گا۔

ترمیمی بل کے مطابق اگر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی پاک فوج سے ہوا تو بھی اسی قانون کا اطلاق ہو گا، ساتھ ہی چیئرمین جوائنٹ چیفس کو بھی تین سال کی توسیع دی جائے گی۔آرمی ترمیمی ایکٹ کے بل میں مزید بیان کیا گیا ہے کہ کسی قسم کے تنازع کی صورت میں بھی اسی قانون کا اطلاق جاری رہے گا۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔