سپریم کورٹ نے نیب کی گرفتاریوں پر سوال اُٹھا دیا

سپریم کورٹ نے نیب کی گرفتاریوں پر سوال اُٹھا دیا


اسلام آباد( 24نیوز ) سپریم کورٹ نے تحقیقات کے دوران نیب کے ہاتھوں گرفتاریوں پر سوال اٹھا دیا ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے نیب کی جانب سے دوران تحقیقات ملزمان کی گرفتاری پر سوال اٹھا دیا، جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے نیب گرفتاری کے بعد ثبوت ڈھونڈتا رہتا ہے ،کسی کو پھانسی لگانا ہے لگا دیں ، سزا دینا ہے دے دیں ، نیب تحقیقات مکمل کر کے کیوں گرفتاریاں نہیں کرتا ،انکوائری میں جلدی کیوں نہیں کرتا۔

نیب کے وکیل نےموقف اختیار کیا کہ ملزمان کی گرفتاری ریکارڈ میں ٹمپرنگ کے خدشہ کے پیش نظر کی جاتی ہے, سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ ملزم فیصل کامران نےاسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کے نام لوگوں کیساتھ فراڈ کیا, جس پر وکیل نیب کا کہناتھا کہ ریفرنس دائر کر دیا کوشش کریں گے ریفرنس پر جلد کارروائی مکمل ہو جائے۔

ملزم کےوکیل نےعدالت کو بتایا کہ میرے موکل کے ذمہ رقم ادا کر دی گئی ہے,ایف آئی اے میں بھی یہی کیس میرا موکل بھگت چکا ہے, وکیل نیب نے اس پر استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے فراڈ کی پوری رقم ادا نہیں کی, بعدازاں عدالت نے وکیل ملزم کی جانب سے درخواست ضمانت واپس لینے پرخارج کردی۔