مارکسسٹ لیڈر اور مصنف رسول بخش پلیجو انتقال کر گئے


کراچی(24نیوز) بائیں بازوکے مارکسسٹ لیڈر اور مصنف رسول بخش گزشتہ شب انتقال کر گئے، ان کی عمر 88 برس تھی، رسول بخش پلیجو کافی عرصے سے سانس، دل اور سینے میں تکلیف میں مبتلا تھے، کلفٹن کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے.

رسول بخش پلیجو اکیس فروری انیس سو تیس کو ضلع ٹھٹھہ کے علاقے جنگ شاہی کے گاؤں منگر خان پلیجو میں پیدا ہوئے۔رسول پخش پلیجو نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں اور کراچی میں سندھ مدرستہ الاسلام میں حاصل کی، سندھ لاء کالج کراچی ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔وہ سندھی، اردو، انگریزی، ہندی، عربی، بلوچی، بنگالی، سیراکی، پنجابی اور فارسی زبانیں بول سکتے تھے، کئی کتابیں لکھیں۔

وکالت شروع کی تو سپریم کورٹ کے مشہور وکیل بنے ،رسول بخش پلیجوایک سرگرم سیاسی کارکن بھی تھے، وہ سیاسی اسیر بھی رہے،11 سال سیاسی الزامات میں جیل کاٹی۔پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کیلئے چلائی جانے والی تحریک ایم آر ڈی کا حصہ بھی رہے، جس کے باعث وہ کوٹ لجپت جیل میں سرکاری مہمان رہے۔رسول بخش پلیجو اینٹی گریٹر تھل کینال، کالا باغ ایکشن کمیٹی کا حصہ بھی رہے، پھر اپنی پارٹی عوامی تحریک تشکیل دی، جس کے وہ آخری وقت تک سربراہ رہے۔

رسول بخش پلیجو نے مشہور گلوکارہ، مصنف اور سیاسی رہنما زرینہ بلوچ سے شادی کی، جن سے ایک بیٹا ایاز لطیف پلیجوایڈووکیٹ ہیں۔مرحوم کو ان کے آبائی گاؤں جنگ شاہی میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔