احتساب عدالت کے جج نے ن لیگی رہنماءکو جھاڑ پلادی


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز اور داماد کے ساتھ ایک بار پھر ایون فیلڈ ریفرنس کیس کی سماعت کیلئے احتساب عدالت میں پیش ہوگئے اور ساتھ ہی ساتھ 5 روز کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دائر کردیں۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریفرنس کی سماعت شروع کی تو نواز شریف اور مریم نواز کے وکلا کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دائر کی گئیں جس میں استدعا کی گئی ہے کہ کلثوم نواز کی عیادت کے لیے لندن جانا ہے اس لیے 11 تا 15 جون تک حاضری سے استثنیٰ دیا جائے،درخواستوں کے ساتھ کلثوم نواز کی نئی میڈیکل رپورٹ بھی لگائی گئی ہے۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ استثنیٰ کی درخواست پر 11 جون کو بحث کرلی جائے جس پر عدالت نے فاضل جج محمد بشیر نے کہا کہ نواز شریف پانچ دس منٹ بیٹھ کر جا سکتے ہیں۔

 یہ خبر بھی پڑھیں:  ن لیگ حکومت عوام کو لالی پاپ دے کر چلتی بنی

کمرہ عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے غیر رسمی گفتگو کے دوران صحافی نے سوال کیا کہ نیب نے ایل این جی انکوائری کا حکم دیا ہے جس کا نواز شریف نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہ خاموش رہے،صحافی کے سوال پر پرویز رشید نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کا غلط استعمال ہوا اور اب سی این جی کی لائنیں نہیں لگتیں، کام کرنا جرم بن گیا ہے۔

اس موقع پر دوران سماعت لیگی رہنماوں نے نواز شریف سے گفتگو کی جس پر جج احتساب عدالت محمد بشیر نے کمرہ عدالت میں گفتگو کرنے والوں کو چھاڑ پلاتے ہوئے کہا کہ جسے گفتگو کرنی ہے وہ برآمدے میں جا کر کرے۔