میٹرو بس کیس : درخواست گزار نے چیف جسٹس پر رشوت کا الزام لگادیا

میٹرو بس کیس : درخواست گزار نے چیف جسٹس پر رشوت کا الزام لگادیا


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ نے اسلام آباد میٹروبس سروس ازخود نوٹس  کیس کو نمٹا دیا، ازخود نوٹس نمٹانے پر درخواست گزار شاکراللہ نے چیف جسٹس کے خلاف ہرزہ سرائی کی ، جس کے باعث عدالتی عملہ نے درخواست گزار کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا ۔

سپریم کورٹ میں اسلام آباد میٹروبس سروس سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی، درخواست گزار مشاہد حسین سید اور شاکر اللہ عدالت میں پیش ہوئے، سینیٹر مشاہد حسین سید نے عدالت سے درخواست کی کہ انہوں نے سی ڈی اے کے ماسٹر پلان سے متعلق سوالات اٹھائے تھے، اب کیونکہ میٹرو بس بن چکی ہے لہٰذا اس کیس کو نمٹادیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: احتساب عدالت کے جج نے ن لیگی رہنماءکو جھاڑ پلادی

درخواست گزار شاکر اللہ نے چیف جسٹس پر رشوت مانگنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ  چیف جسٹس نے ان سے رشوت مانگی، جو انھوں نے نہیں دی۔درخواست گزار کی الزام تراشی پر چیف جسٹس برہم ہوئے، ریماکس میں کہا کہ جسٹس عظمت سعید نے ٹھیک کہا تھا آپ کا دماغی توازن درست نہیں، آپ کا معائنہ ہونا چاہیے،  جواب میں شاکر اللہ نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ میڈیکل بورڈ تشکیل دیں، دونوں اکٹھے چل کر معائنہ کراتے ہیں، جس پر شاکر اللہ کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔